منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

ملکی سلامتی کے نام پر عدلیہ کا اختیار استعمال کرنا نظریہ ضرورت ہے،سپریم کورٹ

datetime 3  جون‬‮  2015 |

چیف جسٹس نے کہا کہ وہ آپ کے دلائل کے بعد ہی دلائل کا آغاز کریں گے ۔ پیرزادہ نے کہا کہ انہوں نے آئین کی تاریخ بیان کی ہے ۔ سپریم کورٹ کی لائبریری میں ایک کتاب موجود ہے جس میں اسمبلی کی کارروائی بارے تذکرہ کیا گیا ہے ۔اور اس میں واقعات کا جائزہ بھی لیا گیا ہے ۔ قائد اعظم کے ذہن میں پاکستان کا آئین کیا تھا ؟ اور 1949 میں قرار داد مقاصد آئی ۔ رضا ربانی نے کہا تھا کہ آئین کا بنیادی ڈھانچہ موجود ہے اگر آپ یہ کہیں کہ یہ 19 ویں ترمیم سے ختم ہو چکا ہے تو یہ آپ دیکھ سکتے ہیں آپ پارلیمنٹ کی آئینی ترمیم کے خلاف نہیں جا سکتے لیکن وہ اس بات کو نہیں مانتے ۔ جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے کہا کہ( آپ ہماری معاونت کریں کہ کس طرح کے معاملات ہیں ہم مداخلت کر سکتے ہیں ۔ ہمیں بالکل ہی اختیار نہیں اگر ہے تو کتنا ۔ اگر بالکل اختیار نہیں ہے تو یہ خطرناک بات ہے ۔ پیرزادہ نے کہاکہ ہمارے ملک میں کبھی شفاف اور منصفانہ انتخابات نہیں ہو سکے ۔ (یہی ہماری روایت اور تاریخ ہے جب بھی اس ملک کو سلامتی خطرات لاحق ہوئے عدلیہ کو مداخلت کرنا پڑی ۔ جسٹس آصف نے کہا کہ کیا یہ نظریہ ضرورت ہے اس پر حفیظ پیرزادہ نے کہا کہ نہں یہ آئینی اختیار ہے جو آپ نے استعمال کیا ۔ جسٹس ثاقب نے کہا کہ یہ کوئی دوسری فورس بھی استعمال کر سکتی ہے پیرزادہ نے کہا کہ آمروں کے اقدامات کو کسی نے بھی اچھی نظر سے نہیں دیکھا ۔ آپ نے آئین کے دفاع کا حلف اٹھایا ہوا ہے اگر سٹیٹ کو خطرات لاحق ہوتے ہیں تو عدلیہ اس میں مداخلت کر سکتی ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ یہ بتائیں کہ یہی ہمارا اختیار ہے یا کچھ اور بھی ہے ۔ پیرزادہ نے کہا کہ آپ براہ راست حکومت فارغ نہیں کر سکتے (مگر آپ کو دیگر کئی اختیارات حاصل ہیں ۔ اس ملک میں کرائے گئے ریفرنڈم مشکوک ہیں ۔ کور کمانڈر نے بھٹو سے کہا کہ حالات خراب ہیں آپ فوج کے لئے قابل قبول ہیں مگر آپ کی پارٹی قبول نہیں ہے ۔ 16 مئی 1977 کو ہمیں اور مولوی محمود الحسن کو جیل میں جانا پڑا ۔ جسٹس میاں ثاقب نے کہا کہ کیا عدالت کیس بھی معاملے پر براہ راست ریفرنڈم کرا سکتی ہے یا نہیں) پیرزادہ نے کہا کہ عدلیہ فیصلوں میں تو اس کی اجازت دی گئی ہے مگر آپ کو ایڈوائزری اختیار حاصل ہے ۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…