پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

ایگزیکٹ کی اسناد دنیا بھر میں عام ہو چکی اب کسی اور سرٹیفیکیٹ کی ضرورت نہیں، سپریم کو رٹ

datetime 25  مئی‬‮  2015 |

میں سپریم کورٹ قرار دے چکی ہے کہ اللہ کی حاکمیت کو تسلیم کرتے ہوئے عوامی نمائندے دیئے گئے اختیارات کے تحت کام کریں گے ۔ ہر قانون جو بنایا جائے وہ قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق ہونا چاہئے ۔ انہوں نے پاکستان لائزر فورم کیس کا بھی حوالہ دیا ۔ عدالت نے کہا کہ اسلم خان کا مقدمہ فیڈرل شریعت کورٹ میں ہے ۔ اے کے ڈوگر نے 17 ویں ترمیم پر بات کی ۔جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ پاکستانی عدالتیں آئین کے بنیادی خدوخال پر یقین رکھتی ہیں اور ان کو مسلسل تسلیم کیا ہے جبکہ بھارتی عدالتوں میں ایسا کچھ نہیں ہے ۔ اے کے ڈوگر نے کہا کہ عدالت کی پرائمری اور سکینڈری پاورز ہوتی ہیں بھارتی فیصلے کے مطابق عدلیہ کو لامحدود اختیارات حاصل ہیں ۔ جسٹس سرمد جلال عثمانی نے کہا کہ بنیادی حقوق کو کسی بھی ترمیم سے ختم نہیں کیا جا سکتا ۔ کیا بنیادی حقوق میں بھی ترمیم ہو سکتی ہے ۔ اے کے ڈوگر نے کہا کہ 18 ویں ترمیم میں 3 آرٹیکلز میں ترمیم کی گئی ہے ۔ جسٹس سرمد نے کہاکہ کیا بنیادی حقوق کے پل کو ختم کیا جا سکتا ہے جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ بنیادی حقوق کو کسی قانون کے تحت ختم نہیں کیا جا سکتا ۔ پارلیمنٹ کو اختیارات حاصل ہیں کیا وہ آئین میں ترمیم کے بنیادی حقوق پر قدغن لگا سکتی ہے ۔ اے کے ڈوگر نے کہا کہ ایسا نہیں کیا جا سکتا ۔ بنیادی حقوق کی گارنٹی تو آئین نے خود دے رکھی ہے کوئی بھی ترمیم کسی بنیادی آئینی ڈھانچے کو متاثر نہیں کر سکتی اگر ایسا ہو گا تو اسے عدالت ختم کر سکتی ہے ۔ آرٹیکل 10 اے ، 19 اے اور 25 اے میں ترمیم کی گئی ہے ۔ ان میں اضافہ کیا گیا ہے حقوق کو کم نہیں کیا گیا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…