منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

فوجی عدالتوں کا قیام عدلیہ کی نہیں حکومت‘ انتظامیہ اور سول اداروں کی ناکامی ہے،سپریم کورٹ

datetime 21  مئی‬‮  2015 |

جسٹس آصف نے کہا کہ 1995ءسے قوانین بنائے گئے مگر لوگوں کو تحفظ نہ مل سکا قانون موجود ہیں یہ سیاسی خواہش نہیں ہے۔ خالد انور نے کہا کہ انسداد دہشت گردی عدالتوں کے جج مجھ سے کہتے ہیں ہمیں خطرات ہیں جسٹس اعجاز چوہدری نے کہا کہ کسی جج نے نہیں کہا کہ میں چیف جسٹس رہا ہوں کسی جج نے آج تک نہیں کہا کہ انہیں خطرات ہیں کوئی مقدمہ زیر التواءنہیں ہے اٹارنی جنرل سے اس حوالے سے اعداوشمارمانگیں گے جسٹس ثاقب نے کہا کہ دہشت گردی نے معیشت برباد کر دی‘ اداروں کی تباہی کی لمبی فہرست ہے سویلین آرڈر میں کوئی طاقت نہیں کسی نے تو کاﺅنٹر کرنا ہے بچوں کو اس ظلم پر چھوڑ دیں کہ دہشت گرد آئیں گے ۔ جسٹس آصف نے کہا کہ انصاف کے نام پر ایسا کیوں کر رہے ہیں انتظامی طور پر آپ جو مرضی کریں مگر جج کی کرسی تو حاصل نہ کریں۔ ہم فوج کے بارے میں بات نہیں کر رہے ہیں ہم ریاست کی بات کر رہے ہیں خالد انور نے کہا کہ یہ ایکٹ فوج کا ہے آپ اس کی بات کر رہے ہیں کام وہی کر رہی ہے۔ جسٹس آصف نے کہا کہ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ کے زور پر فوج کو مسلط کرنے کی اجازت دی جائے۔ آپ ججز پر الزام لگا رہے ہیں آپ اپنی ذمہ داری محسوس کریں۔ بہت آسان ہے عدلیہ کو ٹارگٹ کرنا امریکہ میں 80 مقدمات کاایک دن میں فیصلہ نہیں ہوتا ہم کر رہے ہیں اب یہ روایت بن چکی ہے حکومت کچھ نہ کر سکے تو عدالتوں پر الزامات لگانا شروع کر دے۔ جسٹس جواد نے کہا کہ ہم اس معاملے کا مستقل حل چاہتے ہیں ہمارا شاندار ماضی بھی رہا ہے۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…