اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

الطاف حسین اور ایم کیوایم کے مستقبل سے متعلق حساس اداروں نے فیصلہ کرلیا:غیر ملکی خبر رساں ایجنسی

datetime 27  اپریل‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) برطانوی خبر رساں ایجنسی ”رائٹرز“ کا کہنا ہے کہ پاکستان کے معاشی مرکز اور سب سے بڑے شہر کراچی کا کنٹرول طاقتور متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) سے ایک طاقتور ریاستی ادارے کو منتقل کرنے کی مہم جاری ہے، ملک کی طاقتور خفیہ ایجنسی کی جانب سے پس پردہ رہ کر معاملات چلانے کا دور گزر چکا ہے اور اب وہ اس شہر کا کنٹرول ایم کیو ایم سے لینے کی مہم کی قیادت کررہی ہے۔خبر رساں ایجنسی نے اپنی ایک خصوصی رپورٹ میںایک اعلیٰ سرکاری افسر کے حوالے سے بتایا ہے کہ کراچی پر غلبے کا معاملہ خاموشی کے ساتھ سرکتا ہوا آگے بڑھ رہا ہے۔ اہلکار کا مزید کہنا تھا کہ ”کراچی بہت بڑا ہے۔ بہت سی زمین، بہت زیادہ کاروبار، وسائل۔ اب کراچی پر کسی ایک پارٹی کو حکمرانی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔“خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ کراچی پر ایم کیو ایم اور خصوصاً الطاف حسین کی گرفت کمزور ہونے سے دیگر ایسی سیاسی پارٹیوں کے لئے جگہ پیدا ہوجائے گی جنہیں فوج کے زیادہ ہمدرد سمجھا جاتا ہے، مثلاً عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف۔ یہ خیال بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ دفاعی اداروں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی وجہ سے وزیراعظم نواز شریف کے لئے بھارت کے ساتھ تلخی کم کرنا مشکل ہوجائے گا، جس کا انہوں نے 2013ءکا الیکشن جیتنے کے بعد وعدہ کیا تھا۔دوسری جانب کراچی کی پولیس کو تشدد کے خاتمے کے لئے نہایت کمزور یا کرپٹ سمجھا جاتا ہے، لہٰذا شہریوں کی اکثریت فوج پر انحصار کرنے کے لئے رضامند ہے۔ ”رائٹرز“ کے مطابق سینئر سرکاری اہلکاروں کا کہنا ہے کہ کراچی میں سویلین انتظامیہ کو ایک طرف کردیا گیا ہے اور رینجرز کے سربراہ اور صوبہ سندھ کے چیف ملٹری کمانڈر فیصلے کررہے ہیں۔

مزید پڑھئے:یوگا ورزش جو آ پ دفتر بیٹھےبھی کر سکتے ہیں

دونوں کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ انہیں ریاست کے دفاعی اداروں کے سربراہوں کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ اہلکاروں کے مطابق ایم کیو ایم کے مرکز پر چھاپے یا الطاف حسین کے خلاف گزشتہ ماہ درج کئے گئے کیس سے پہلے بھی گورنمنٹ سے مشاورت نہیں کی گئی۔ 13 سال سے گورنر کے عہدے پر فائز عشرت العباد اور سندھ کے وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ کو بھی ان ریگولر سیکیورٹی میٹنگز سے باہر رکھا جارہا ہے جن کی وہ کبھی سربراہی کیا کرتے تھے۔ ”رائٹرز“ کے مطابق کراچی میں اپنائی جانے والی نئی حکمت عملی سے واقفیت رکھنے والی ایک شخصیت کا کہنا ہے کہ اگر الطاف حسین الگ ہوجائیں تو ایم کیو ایم باقی رہے گی، اگر وہ الگ نہیں ہوتے تو ان کے ساتھ پارٹی بھی جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…