ہفتہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2026 

نیپال میں زلزلے کی تباہی ، ہلاکتوں کی تعداد 3200 سے تجاوز کر گئی

datetime 27  اپریل‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) نیپال میں سات اعشاریہ نو شدت کے زلزلے میں ہلاکتوں کی تعداد بتیس سو اٹھارہ ہو گئی جبکہ لاکھوں افراد کھلے آسمان تلے بے سرو سامانی کی حالت میں بیٹھے ہیں۔ آفٹر شاکس کا سلسلہ بھی جاری ہے۔نیپال میں ہولناک زلزلے نے سروں سے چھت چھینی، پیارے بچھڑے اور کئی عمر بھر کے لیے معذور ہو گئے۔ اسپتال میں زخمیوں کے لیے جگہ ہی نہ رہی۔ بلندوبالا عمارتیں، گھر، مینار، مندر سب کچھ ملبے میں بدل گیا۔جو بچ گئے وہ کھلے آسمان تلے بے سرو سامانی کی حالت میں بیٹھے ہیں۔ دوسری طرف آفٹر شاکس بھی دل دہلا رہے ہیں۔ اب تک سو آفٹر شاکس ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔ چھ اعشاریہ نو کے آفٹر شاک نے پورا گاو¿ں تباہ کر دیا۔ ایک ہزار سے زائد افراد مٹی تلے دب گئے۔ بھارت، چین، امریکا، برطانیہ، آسٹریلیا، جرمنی، روس سمیت متعدد ممالک کی جانب سے نیپال میں امداد پہنچانے کا سلسلہ جاری ہے۔ دوسری جانب ، عالمی اداروں اور ممالک کی جانب سے امداد فراہم کرنے کا سلسلہ تیز کردیا گیا ہے ، تاہم بجلی کی عدم دستیابی، سڑکوں کی بندش اور اسپتالوں میں گنجائش نہ ہونے کے باعث مشکلات ہیں، عالمی ادارہ صحت کی جانب سے ہنگامی بنیادوں پر ادویہ اور دیگر ضروری طبی سامان فراہم کیا جارہا ہے۔آسٹریلین ریڈ کراس ادارے کا کہنا ہے کہ ملبے کے ڈھیر، وسیع تباہی کے باعث بہت سے علاقوں میں امداد فراہم کرنے میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔برطانوی حکومت کی جانب سے 70 لاکھ 60 ہزار ڈالر امداد کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ یورپی یونین نے امدادی کاموں کے لیے فوری طور پر تیس لاکھ یوروز فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ امریکی ادارے یو ایس ایڈ کے مطابق امریکا نے دس لاکھ ڈالر اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے والی ٹیم روانہ کرنے کا اعلان کیا ہے، ناروے نے بھی 40 لاکھ ڈالر امداد کا اعلان کیا ہے۔آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے مشترکہ طور پر چالیس لاکھ 50 ہزار ڈالر اور جنوبی کوریا نے دس لاکھ ڈالر امداد کا اعلان کیا ہے۔کینیڈا نے بھی زلزلہ متاثرین کی مدد کے لیے خصوصی رسکیو ٹیم بھیجنے کے علاوہ پچاس لاکھ ڈالر امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔مالی امداد کے علاوہ بھارت، روس، چین، سنگاپور، بیلجیم، اور جرمنی نے امدادی سامان اور ریسکیو ٹیمیں بھی نیپال روانہ کردی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن


ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…