استنبول(نیوزڈیسک)صدر مملکت ممنون حسین اور ترک صدر رجب طیب اردوان نے یمن کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مسئلہ کے جلد حل کی ضرورت پر زور دیا ہے۔یہ بات صدر مملکت ممنون حسین نے اپنے ترک ہم منصب رجب طیب اردوان سے استنبول میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ صدر مملکت ممنون حسین نے کہا کہ پاکستان یمن تنازعے کے جلد اور پرامن حل کے لیے کوششیں کررہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ سعودی عرب کی خودمختاری اور سالمیت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم حصہ ہے۔ پاکستان کی پہلے دن سے یہ پالیسی ہے کہ حرمین شریفین کی حرمت پر کوئی ا?نچ نہیں ا?نے دی جائے گی۔ دونوں صدور نے یمن میں حوثی باغیوں کی جانب سے صدر منصور ہادی کی قانونی حکومت کو ختم کرنے کی مذمت کی اور کہا کہ حوثی باغیوں کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے۔ دونوں صدور نے یمن تنازعہ کے جلد از جلد حل کی ضرورت پر بھی زور دیا۔صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے درمیان بہترین سیاسی تعلقات ہیں جبکہ اقتصادی تعلقات صلاحیت سے کم ہیں جس میں فوری اضافے کی ضرورت ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ ترک حکومت کی جانب سے پاکستان کو جی ایس پی پلس کی فہرست میں شامل نہیں کیا گیا۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ ترکی اس معاملہ کا ازسر نو جائزہ لے گا۔ صدر مملکت نے کہا کہ بہت سی ترک کمپنیوں نے داسو ڈیم کی تعمیر میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ انھوں نے ترک کمپنیوں کو پاکستان میں انفراسٹرکچر اور تعمیرات کے شعبے اور ڈیموں کی تعمیر میں سرمایہ کاری کرنے کا کہا ہے۔ انھوں نے پاکستان اور ترکی کے درمیان ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔ صدر مملکت نے ترک صدر کی جانب سے ترک کمپنیوں کی پاکستان میں خصوصاً ہائیڈرو منصوبوں میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کو سراہا۔ صدر مملکت نے امید ظاہر کی کہ سیکیورٹی، دفاع اورانسداد دہشت گردی میں دونوں ممالک کا تعاون جاری رہے گا۔صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان اور ترکی بحیثیت دوست اور بھائی خوشی اور غم میں ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ رہے ہیں۔ دوطرفہ دوروں سے دونوں ملکوں کے درمیان باہمی ہم آہنگی اور اتحاد کو مزید فروغ ملے گا۔ صدر مملکت نے کہا کہ چناکلی جنگ کی صد سالہ تاریخی تقریبات میں شرکت ان کے لیے باعث مسرت ہے۔ پاکستان بھی ان بہادر ترک سپاہیوں کو خراج عقیدت پیش کرتا ہے جنھوں نے اپنی جان کا نظرانہ پیش کرکے آزاد ترک مملکت کی بنیاد رکھی۔ اس موقع پر ترک صدر نے چناکلی جنگ کی تقریبات میں شرکت کرنے پر صدر مملکت کا شکریہ ادا کیا۔صدر مملکت نے ترکی کی موجودہ متحرک قیادت میں ترک قوم کی بے مثال ترقی کی تعریف کی۔ انھوں نے کہا کہ فروری 2015 میں اسلام ا?باد میں منعقد ہونے والی اعلیٰ سطح کا اسٹریٹیجک تعاون اجلاس دونوں ملکوں کے درمیان مختلف شعبوں میں جاری دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لینے میں معاون ثابت ہوگا۔صدر مملکت نے دوطرفہ تعاون کو مزید بڑھانے کے لیے پارلیمانی، ثقافتی، میڈیا اور عوامی سطح پر رابطوں کی ضرورت پر زور دیا۔ صدر مملکت نے اپنے ترک ہم منصب کو دورہ پاکستان کی دعوت دی جو انھوں نے قبول کر لی۔ صدر ممنون حسین نے امید ظاہر کی کہ ترک صدر جلد ہی پاکستان کا دورہ کریں گے
صدر مملکت ممنون حسین اور ترک صدر رجب طیب اردوان کی ملاقات،یمن کی صورتحال پر تشویش کا اظہار
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ
-
پیر سے تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیش گوئی
-
بابراعظم اور شاہین آفریدی کی چھٹی
-
اپنی رجسٹرڈ سمز کی تعداد کیسے معلوم کریں؟ پی ٹی اے نے طریقہ بتا دیا
-
حکومت سے مذاکرات کے بعد مالکان کا گھی ، کوکنگ آئل کی قیمتوں میں کمی کا اعلان
-
سعودی عرب : وزٹ ویزے پر آنے والوں کیلئے بڑی خبر
-
انجینئر محمد علی مرزا پر اکیڈمی میں حملہ
-
لاہور میں رشتہ دکھانے کے بہانے 2 سگی بہنوں کو 3 ملزمان نے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا
-
وفاقی حکومت کا عمران خان کی آنکھ کا علاج خصوصی ہسپتال میں کرانے کا اعلان
-
غیر قانونی قبضہ قابل سزا جرم، پنجاب اونرشپ پراپرٹی ترمیمی آرڈیننس کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری
-
عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے کی قیمت میں نمایاں کمی
-
لاہور میں خاتون کو ہراساں کرنے والے رکشہ ڈرائیورکے نیفے میں پستول چل گیا
-
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا
-
بہن بھائی نے ملکر باپ کو مبینہ طور پر قتل کردیا



















































