ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

صدر مملکت ممنون حسین اور ترک صدر رجب طیب اردوان کی ملاقات،یمن کی صورتحال پر تشویش کا اظہار

datetime 25  اپریل‬‮  2015 |

استنبول(نیوزڈیسک)صدر مملکت ممنون حسین اور ترک صدر رجب طیب اردوان نے یمن کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مسئلہ کے جلد حل کی ضرورت پر زور دیا ہے۔یہ بات صدر مملکت ممنون حسین نے اپنے ترک ہم منصب رجب طیب اردوان سے استنبول میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ صدر مملکت ممنون حسین نے کہا کہ پاکستان یمن تنازعے کے جلد اور پرامن حل کے لیے کوششیں کررہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ سعودی عرب کی خودمختاری اور سالمیت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم حصہ ہے۔ پاکستان کی پہلے دن سے یہ پالیسی ہے کہ حرمین شریفین کی حرمت پر کوئی ا?نچ نہیں ا?نے دی جائے گی۔ دونوں صدور نے یمن میں حوثی باغیوں کی جانب سے صدر منصور ہادی کی قانونی حکومت کو ختم کرنے کی مذمت کی اور کہا کہ حوثی باغیوں کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے۔ دونوں صدور نے یمن تنازعہ کے جلد از جلد حل کی ضرورت پر بھی زور دیا۔صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے درمیان بہترین سیاسی تعلقات ہیں جبکہ اقتصادی تعلقات صلاحیت سے کم ہیں جس میں فوری اضافے کی ضرورت ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ ترک حکومت کی جانب سے پاکستان کو جی ایس پی پلس کی فہرست میں شامل نہیں کیا گیا۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ ترکی اس معاملہ کا ازسر نو جائزہ لے گا۔ صدر مملکت نے کہا کہ بہت سی ترک کمپنیوں نے داسو ڈیم کی تعمیر میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ انھوں نے ترک کمپنیوں کو پاکستان میں انفراسٹرکچر اور تعمیرات کے شعبے اور ڈیموں کی تعمیر میں سرمایہ کاری کرنے کا کہا ہے۔ انھوں نے پاکستان اور ترکی کے درمیان ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔ صدر مملکت نے ترک صدر کی جانب سے ترک کمپنیوں کی پاکستان میں خصوصاً ہائیڈرو منصوبوں میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کو سراہا۔ صدر مملکت نے امید ظاہر کی کہ سیکیورٹی، دفاع اورانسداد دہشت گردی میں دونوں ممالک کا تعاون جاری رہے گا۔صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان اور ترکی بحیثیت دوست اور بھائی خوشی اور غم میں ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ رہے ہیں۔ دوطرفہ دوروں سے دونوں ملکوں کے درمیان باہمی ہم آہنگی اور اتحاد کو مزید فروغ ملے گا۔ صدر مملکت نے کہا کہ چناکلی جنگ کی صد سالہ تاریخی تقریبات میں شرکت ان کے لیے باعث مسرت ہے۔ پاکستان بھی ان بہادر ترک سپاہیوں کو خراج عقیدت پیش کرتا ہے جنھوں نے اپنی جان کا نظرانہ پیش کرکے آزاد ترک مملکت کی بنیاد رکھی۔ اس موقع پر ترک صدر نے چناکلی جنگ کی تقریبات میں شرکت کرنے پر صدر مملکت کا شکریہ ادا کیا۔صدر مملکت نے ترکی کی موجودہ متحرک قیادت میں ترک قوم کی بے مثال ترقی کی تعریف کی۔ انھوں نے کہا کہ فروری 2015 میں اسلام ا?باد میں منعقد ہونے والی اعلیٰ سطح کا اسٹریٹیجک تعاون اجلاس دونوں ملکوں کے درمیان مختلف شعبوں میں جاری دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لینے میں معاون ثابت ہوگا۔صدر مملکت نے دوطرفہ تعاون کو مزید بڑھانے کے لیے پارلیمانی، ثقافتی، میڈیا اور عوامی سطح پر رابطوں کی ضرورت پر زور دیا۔ صدر مملکت نے اپنے ترک ہم منصب کو دورہ پاکستان کی دعوت دی جو انھوں نے قبول کر لی۔ صدر ممنون حسین نے امید ظاہر کی کہ ترک صدر جلد ہی پاکستان کا دورہ کریں گے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…