پیر‬‮ ، 16 فروری‬‮ 2026 

پاک چین را ہداری کا نقشہ سپریم کو رٹ میں پیش

datetime 8  اپریل‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) نیشنل ہائی وے اتھا رٹی نے پاک چین را ہداری کا نقشہ سپریم کو رٹ میں پیش کر دیا جبکہ سپریم کورٹ نے مارگلہ ہلز ٹنل کی تعمیر اور نیشنل پارک میں تجاوزات بارے مقدمے کی سماعت 24 اپریل تک ملتوی کرتے ہوئے سیکرٹری داخلہ سے 12 گھنٹوں میں جواب طلب کیا ہے کہ عدالت کو بتایا جائے کہ نیشنل پارک کا رقبہ پاکستان میں آتا ہے یا نہیں اور یہ براہ راست کس کے کنٹرول میں ہے اور یہاں تجاوزات کا ذمہ دار کون ہو سکتا ہے ؟ جبکہ تین رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ عدالتی حکم کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی جا رہی ہے اسی طرح کے کاموں سے لگتا ہے کہ کسی کو نوازا جا رہا ہے نیشنل پارک سے ایک پتھر بھی نکالا گیا ہے تو یہ عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہے اور ذمہ داروں کو اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے کسی تیز نظر والے کو دکھا دیں کہ عدالتی حکم پر کس حد تک عمل ہوا ہے ۔ چھ لینز کی ٹنل کیسے گزاری جا سکتی ہے جبکہ جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے ہیں کہ یہ بت برا لگتا ہے کہ سی ڈی اے حکام عدالتی حکم پر کارروائی ایک تھانیدار کی طرز پر کررہے ہیں ۔ کیا یہ علاقے پاکستان میں نہیں آتا جو حکام اس بات پر الجھ رہے ہیں کہ یہ کس کی ذمہ داری بنتی ہے انہوں نے یہ ریمارکس بدھ کے روز دیئے ہیں ۔ سماعت کے دوران سی ڈی اے حکام نے نقشہ پیش کیا اور عدالت کو بتایا کہ چھ لین گزارنا تھیں تاہم اب یہ ہری پور سے کام روک دیا گیا ہے اس پر عدالت نے کہا کہ اتنی بڑی ٹنل کیسے گزاری جا سکتی ہے اور یہ تو عدالتی حکم کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے درخواست گزار نایاب گردیزی نے کہا کہ کام اب بھی جاری ہے رات کو کرشنگ کی جا رہی ہے اور کام تاحال نہیں روکا گیا ہے ۔ ایسا کیا جانا عدالتی احکامات کی خلاف ورزی ہے ۔اس دوران فیکٹو فیکٹری کے مالکان کی جانب سے اعتزاز احسن کے ایسوسی ایٹ گوہر ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے سماعت ملتوی کرنے کی درخواست دے رکھی ہے وہ اہم معاملات کی وجہ سے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شریک ہیں اس پر جسٹس جواد نے کہاکہ ہم ان کی قدر کرتے ہیں مگر یہ معاملہ بھی اہم ہے تاہم ان کی درخواست کی وجہ سے مزید سماعت نہیں کر رہے ہیں ۔ لاءافسر عبدالرﺅف نے کہا کہ پہلے یہ طے کرنا ہو گا کہ کس کی ذمہ داری بنتی ہے ۔ منیر پراچہ نے کہا کہ کیپیٹل کی حد تک سی ڈی اے باقی ذمہ داری وزارت داخلہ کی بنتی ہے تگو اس پر عدالت نے کہاکہ سیکرٹری داخلہ سے جواب مانگ لیتے ہیں وہ شام تک جواب دے دیں ہم اس کی مزید سماعت 24 اپریل کوکریں گے ۔ بعدازاں عدالت نے سماعت ملتوی کردی جبکہ آئندہ سماعت پر چیئرمین نیشنل ہائی وے اتھارٹی ( این ایچ اے ) کو بھی طلب کر لیا گیا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ


نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…