اتوار‬‮ ، 15 فروری‬‮ 2026 

’آپریشن خیبر ٹو کے آخری مرحلے میں شدید لڑائی متوقع‘

datetime 26  مارچ‬‮  2015 |

پشاور(نیوز ڈیسک) پاکستان کے زیر انتظام قبائلی علاقوں اور اینجسز میں دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے فوج کی جانب سے جاری آپریشن آخری مراحل میں داخل ہونے والا ہے۔ ڈان نیوز کے مطابق حکومت اور پاک فوج کے ذرائع کی جانب سے دعویٰ کیا جارہا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن اپنے آخری مراحل میں تقریباً داخل ہوگیا ہے اور فوج اس وقت دہشت گردوں کی واحد پناہ گاہ وادی تیرہ میں آپریشن کرنے جارہی ہے جبکہ دیگر 6 ایجنسیز کو دہشت گردوں سے پاک کردیا گیا ہے۔نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک سینئر سیکیورٹی افسر نے وادی تیرہ میں پاک فوج کی جانب سے شروع کیے جانے والے آپریشن کو ‘انتہائی شدید’ کا عنوان دیتے ہو ئے کہا کہ ‘یہ آخری جنگ ہے جو ہم دہشت گردوں کے خلاف لڑنے جارہے ہیں’۔سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ آپریشن خیبر ٹو، جو کہ آپریشن خیبر ون کا ہی ایک تسلسل ہے خیبر پختونخوا کے قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کے خاتمے کے لئے باڑہ کے علا قوں میں شروع کیا گیا ہے۔جس سے کے پشاوراور دیگر علا قوں میں سیکیورٹی میں مدد ملے گی۔نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک حکومتی عہدیدار کا کہنا تھا کہ وادی تیرہ پاکستان میں مختلف دہشت گرد گروہوں کا ایک اہم مرکز ہے اور جس کسی دہشت گرد تنظیم کا نام لیا جائے گا، اس کی موجودگی کا ثبوت یہاں سے مل جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ داعش اور اس کی پاکستان میں موجود حمایتی تنظیمیں اسلامک اسٹیٹ، تحریک طالبان پاکستان، لشکر اسلام، تحریک طالبان پاکستان جماعت الاحرار اور ان کے تمام غیر ملکی دوست یہاں موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ ڈھائی ہزار کے قریب یہاں پر موجود دہشت گرد اپنی آخری لڑائی لڑنے جارہے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ہزاروں پاکستانی فوجی اسپیشل سروسز گروپ اور جیٹ طیاروں کی مدد سے وادی تیرہ میں آپریشن کے آخری مرحلے میں دہشت گردوں کے خلاف لڑنے جارہے ہیں۔دوسری جانب پاکستانی حکومت اور سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ آپریشن کے دوران انھوں نے دو تہائی علاقے سے دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ کردیا ہے۔یہ خیال رہے کہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور اور افغانستان کے شمالی صوبے نگرہار کے درمیان موجود سیکیورٹی حوالے سے انتہائی اہم میدانی علاقے میں گزشتہ تین روز میں پاک فوج کو دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن میں اب تک کا سب سے زیادہ جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔مذکورہ آپریشن میں اب تک ایک میجر سمیت پاک فوج کے 16 اہلکار ہلاک جبکہ دو افسران سمیت متعدد فوجی اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ


نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…