جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

ہمارا وجود برداشت نہیں ہورہا تو کیا متحدہ کو کسی اور کے حوالے کردیں‘ الطاف حسین

datetime 11  مارچ‬‮  2015 |

کراچی(نیوز ڈیسک)ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ قوم کو دکھایا گیا اسلحہ رینجرز اہلکار خود کمبلوں میں چھپا کرلائے تھے۔ ایم کیو ایم کے کارکنوں سے خطاب کے دوران الطاف حسین نے کہا کہ رینجرز نے کراچی میں ان کے گھر نائن زیرو اور ان کی بڑی بہن کے گھر پر چھاپہ مارا۔ رینجرز نے نائن زیرو کے اطراف گھروں میں جو بھی نوجوان ملا اسے حراست میں لے لیا۔ اس دوران ایم کیو ایم کا ایک کارکن فائرنگ کرکے ہلاک اور ایکسپریس نیوز کا کیمرہ مین زخمی ہوا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بدقسمتی سے کچھ لوگ قانون کی زد میں آتے ہیں اور کچھ لوگ قانون کی ضد بن جاتے ہیں یعنی قانون سے ماورا ہوجاتے ہیں۔ ان پر کسی معاشرتی اقدار کا اطلاق نہیں ہوتا۔ انہیں ہر قسم کے ظلم اور زیادتی کی آزادی ہوتی ہے۔ صوبہ سندھ میں امن و امان برقرار رکھنے کے لئے رینجرز کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ کراچی میں قتل و غارت رکوانے کے لئے ہم نے فوجی آپریشن کا مطالبہ کیا لیکن آپریشن کی ذمہ داری رینجرز کو دے دی گئی۔
الطاف حسین نے کہا کہ اس ملک میں کوئی آئین نہیں ہے، اداروں کو کسی کو پھنسانا ہو تو اس کے سامان سے منشیات برآمد کرلی جاتی ہے، ایم کیو ایم ملک کی تیسری بڑی سیاسی جماعت ہے۔ ملک میں سیاسی رہنماو¿ں کی گرفتاریاں تو ہوتی ہیں لیکن کسی جماعت کے سربراہ کے گھر پر چھاپہ نہیں مارا جاتا لیکن ان کے گھر پر 100 سے زائد چھاپے مارے گئے، کیا وہ مسلمان اور پاکستانی نہیں، گھروں میں گھس کر کارکنوں کو اٹھانے کے بعد ان کے کارکنوں کی لاشیں کیوں پھینکی جاتی ہیں۔ اگر ہمارا وجود برداشت نہیں ہورہا تو کیا متحدہ کو کسی اور کے حوالے کردیں۔ رابطہ کمیٹی لائحہ عمل طے کرے اور انہیں پارٹی سے الگ کردے۔ سپریم کورٹ نے رولنگ دی تھی کہ کراچی میں سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگ ہیں لیکن جب آپریشن شروع کیا گیا تو ایم کیو ایم کے علاوہ کسی جماعت کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی۔
ایم کیو ایم کے قائد کا مزید کہنا تھا کہ رینجرز اگر ملزمان کو گرفتار کرنے گئی تھی تو پھر وہ 70 سالہ بوڑھی بیوہ کے گھر میں دروازہ توڑ کر کیوں داخل ہوئے۔ رینجرز نے قوم کو وہ اسلحہ دکھایا جو انہوں نے زندگی میں کبھی نہیں دیکھا، خواتین کہتی ہیں کہ رینجرز حکام خود کمبلوں میں اسلحہ لائے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کسی بھی صورت دہشت گردی برداشت نہیں کرتی، جو لوگ مطلوب تھے ان کو نائن زیرو کو مصیبت میں نہیں ڈالنا چاہیے تھا، مطلوب افراد تھے تو نائن زیرو کے بجائے کسی دوسری جگہ پناہ لے لیتے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ان پر زہرہ شاہد کے قتل کا الزام لگانے والے عمران خان کی بیٹی نے سوشل میڈیا پر اپنے قتل کا الزام لگایا ہے، اسی طرح چھاپے کا ڈرامہ رچانے والوں پر بھی عذاب الہی نازل ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…