پاکستان کے اصل ایٹمی اثاثے

  اتوار‬‮ 5 دسمبر‬‮ 2021  |  0:01

سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ پاکستان کے بڑے ویلفیئر ٹرسٹس میں شمارہوتا ہے‘ یہ ادارہ مولانا بشیر قادری صاحب نے 1999میں بنایا تھا‘ ملک بھر میں سیلانی کے دستر خوان بھی چل رہے ہیں اور فلٹریشن پلانٹس بھی‘ یہ لوگ روزانہ ضرورت مندوں کو ایک کروڑ روپے کا کھانا کھلاتے ہیں۔فلٹریشن پلانٹس‘ جہیز فنڈز‘ اجتماعی شادیاں اور مفت ادویات اس کے علاوہ ہیں‘ وزیراعظم کادستر خوان پروگرام بھی سیلانی ٹرسٹ چلا رہا ہے‘ رقم ٹرسٹ خرچ کرتا ہے لیکن واہ واہ حکومت سمیٹ رہی ہے‘ مولانا بشیر قادری کے تمام منصوبے شان دار اور قابل تقلید ہیں لیکن ان کا ایک منصوبہ حقیقتاً انقلابی ہے۔ میرا خیال ہے ریاست اگر اس منصوبے کو اپنا لے تو چند برسوں میں پورا ملک بدل جائے گا اور یہ منصوبہ ہے ’’سیلانی آئی ٹی ٹریننگ‘‘

ٹرسٹ نے کراچی‘ حیدر آباد اورفیصل آباد میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سینٹرز بنارکھے ہیں اور یہ ان سینٹرز میں نوجوانوں کو آئی ٹی کے مختلف شعبوں میں مفت ٹریننگ دیتے ہیں‘ کورسز چھ ماہ سے ڈیڑھ سال تک ہوتے ہیں‘ کورس مکمل ہونے کے بعد یہ لوگ طالب علموں کو لیپ ٹاپ بھی دیتے ہیں اور دفتر میں جگہ بھی‘ ان کا کام چل پڑتا ہے تو یہ ان سے آفس واپس لے لیتے ہیں‘ مجھے مولانا بشیر قادری کے ساتھ فیصل آباد کا سینٹر وزٹ کرنے کا موقع ملا تھا‘ میں ان لوگوں کا جذبہ اور کوشش دیکھ کر حیران رہ گیا۔ٹرسٹ سے اب تک 15 ہزار طالب علم فارغ التحصیل ہو چکے ہیں جب کہ پچاس ہزار ٹریننگ لے رہے ہیں‘ طالب علموں کو آرٹی فیشل انٹیلی جینس‘ ویب ڈویلپمنٹ‘ ایپ ڈویلپمنٹ‘ ری ایکٹ نیٹو‘ فلوٹر‘ کلائوڈ کمپیوٹنگ‘ بلاک چین اور سی سی این پی اور سی سی ایس اے کے کورس کرائے جاتے ہیں‘ سیلانی نے ای لرننگ بھی شروع کر دی ہے لہٰذا طالب علم اب پوری دنیا سے ماڈرن کمپیوٹرنگ اور سوشل میڈیا ایپس سیکھ رہے ہیں‘ مجھے مولانا بشیر قادری نے بتایا تھا ’’ہم کم از کم دس لاکھ نوجوانوں کو آئی ٹی ایکسپرٹ بنانا چاہتے ہیں اور ہم 2030 تک یہ کر کے رہیں گے اور اس سے پاکستان 100 ارب ڈالر کمائے گا‘‘۔ آپ کو یہ دعویٰ دیوانگی محسوس ہو گی لیکن یہ عین ممکن ہے‘ ان کے 15 ہزار طالب علم اس وقت اپنے پائوں پر کھڑے ہیں‘ ہزار طالب علم ماہانہ ایک ایک ہزار ڈالر کما رہے ہیں‘ یہ ایک لاکھ 75 ہزار روپے بنتے ہیں اور یہ اٹھارہ سے 22 سال تک کے نوجوانوں کے لیے اچھی خاصی رقم ہے‘ کیا یہ انقلاب نہیں؟ یہ درست ہے بھوکے کو کھانا کھلانا اور بیمار کے علاج کا بندوبست کرنا عظیم نیکی ہوتی ہے لیکن کسی شخص کو وقارکے ساتھ روزگار دینا‘ اسے مچھلی پکڑنے کا طریقہ سکھانا یا رسول اللہ ﷺ کی طرح ضرورت مند کی کلہاڑی میں دستہ ٹھونک دینا اس سے بھی کہیں افضل‘ کہیں شان دار نیکی ہے لہٰذا میں آئی ٹی پروگرام کو سیلانی ٹرسٹ کے تمام پروگراموں سے بڑا پروگرام سمجھتا ہوں‘ وزیراعظم کو چاہیے تھا یہ دستر خوان کے بجائے اس پروگرام کو اون کرتے تاکہ دس بیس برسوں میں قوم کا ایک بڑا حصہ اپنے قدموں پر کھڑا ہوتا لیکن ہمارے وزیراعظم کو ہمیشہ چندہ متاثر کرتا ہے‘کیوں؟ میں آج تک یہ نہیں سمجھ سکا۔ پاکستان پچاس چھوٹے بڑے مسائل کا شکار ہے لیکن یہ پچاس مسئلے تین بنیادی مسائل کی پیداوار ہیں‘ ہم اگر یہ تین مسئلے حل کر لیں تو ہمارے پچاس مسئلے خود بخود حل ہو جائیں گے اور ہم 30 سال میں جدید دنیا کے جدید ترین ملکوں میں شامل ہوں گے اور وہ تینوں مسئلے ہیں آبادی‘ بے روزگاری اور بے ہنری‘ ہم قلیل ترین وسائل کے ساتھ آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواںبڑا ملک ہیں‘ ہمارے پاس پینے کے لیے پانی اور کھانے کے لیے گندم نہیںلیکن ہم ہر سال 60 لاکھ نئے بچے پیدا کر دیتے ہیں اور یہ طے شدہ حقیقت ہے اگر کسی ملک میں کھانے والے زیادہ اور کمانے والے کم ہوں گے تو ملک قائم نہیں رہ سکے گا لہٰذا ہمیں ہنگامی طور پر آبادی کنٹرول کرنا ہو گی۔ ہم چین کی طرح ایک بچے کا قانون بنا کر آبادی کنٹرول کریں یا پھر بنگلہ دیش کی طرح علماء کرام کی مدد لے کر لوگوں کو قائل کریں لیکن ہمیں بہرحال یہ کام ہنگامی بنیادوں پر کرنا ہوگا ورنہ دس سال بعد ہمیں پینے کا پانی بھی امپورٹ کرنا پڑے گا‘ دوسرا ہمارے ملک میں صرفایک کروڑ لوگ معاشی لحا ظ سے مکمل طور پر آزاد ہیں‘ باقی 21 کروڑ لوگ ان پرسواری کر رہے ہیں‘ملک میں صرف 29لاکھ لوگ ٹیکس دیتے ہیں اور یہ کل آبادی کا1.38فیصد بنتا ہے‘ ہم فی کس آمدنی میں بھی دنیا میںایک سوانسٹھویں نمبر پر ہیں‘ہم سات سارک ملکوں میں بھی پانچویںنمبر پر ہیں لہٰذا آبادی کے بعد بے روزگاری اس ملک کا دوسرا بڑا مسئلہ ہے۔آپ دن میں کسی وقت‘ کسی شہر کے کسیمحلے میں نکل جائیں آپ کو ہزاروں بے کار لوگ ملیں گے‘ یہ سب بے کار صبح اٹھتے ہیں اور سارا دن ہاتھ ہلائے بغیر گزار دیتے ہیں‘ لوگ اب دیہات میں بھی کام نہیں کرتے‘ پچھلے دنوں راولپنڈی میں کسی نے بحرین پولیس کے لیے بھرتی کا اشتہار دے دیا‘ دس پندرہ ہزار نوجوان پہنچ گئے اور ان نوجوانوں کو واپس بھجوانے کے لیے پولیس بلوانا پڑ گئی اور چپڑاسی اور کانسٹیبل کی نوکری کے لیے بھی ایم فل نوجوان پہنچ جاتے ہیں‘ یہ بے روزگاری لوگوں کے دلوں میں نفرت بھی پیدا کر رہی ہے اورحسد بھی چناں چہ معاشرہ کام یاب اور خوش حال لوگوں کا مخالف ہو چکا ہے۔سیٹھ‘ سی ای او اور چیئرمین کا لفظ گالی بن چکا ہے‘ لوگ دوسروں کی گاڑیوں‘ پلازوں اور دکانوں کے شیشے توڑنا اپنا حق سمجھتے ہیں‘ ہمیں یہ صورت حال بھی ہر صورت بدلنا ہوگی ورنہ یہ بے روزگاری بھی ہمیں نگل لے گی اور ہمارا تیسرا المیہ بے ہنری ہے‘ چائے والے کو چائے بنانی نہیں آتی‘ پلمبر نے پلمبرنگ کا کورس نہیں کیا ہوتا‘ الیکٹریشن لوگوں کی تاریں جلا جلا کر الیکٹریشن بنتا ہے اور ڈرائیور دوسروں کی دوچار گاڑیاں توڑ کر ڈرائیوربن جاتا ہے لہٰذا پورا ملک زوال کی طرف دوڑتا چلا جا رہا ہے۔آپ اب اس کا حل پوچھیں گے‘ حل بہت آسان اور سادہ ہے‘ حکومت سیلانی جیسے دس مذہبی ادارے منتخب کرے اور ان کی مدد لے‘ تبلیغی جماعت سے لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں لوگ وابستہ ہیں‘ دعوت اسلامی کا نیٹ ورک تبلیغی جماعت سے بھی بڑا ہے‘ یہ سوشل میڈیا پر لیڈ کر رہی ہے‘ ٹی ایل پی نےپچھلے ماہ جی ٹی روڈ پر ریاست کی ناک رگڑ دی ‘ جامعۃ الرشید‘ جامعہ بنوری ٹائون اور مدرسہ نعیمیہ آپ اگر ان سے وابستہ لوگوں کی فہرست دیکھ لیں تو آپ حیران رہ جائیں گے‘ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ اورمجلس وحدت المسلمین اہل تشیع کی بڑی تنظیمیں ہیں‘ لاکھوں لوگ ان سے بھی وابستہ ہیں اور آپ اگر اسی طرح پاکستان کی پانچ بڑی گدیوں سے وابستہ لوگوں کا ڈیٹا جمع کریں تو آپ حیران رہ جائیں گے۔پاکستان کی اقلیتیں بھی بہت منظم اور مضبوط ہیں‘ عیسائی کمیونٹی‘ پارسی کمیونٹی‘ ہندو اورسکھ بھی ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں‘ حکومت ان سے بھی رابطہ کرے اور ان سے سیلانی کے آئی ٹی پروگرامز کی طرز پر سینٹر بنوائے اور یہ نوجوانوں کو انفارمیشن ٹیکنالوجی اورڈیجیٹل مارکیٹنگ کی ٹریننگ دیں‘ آپ یقین کریں ملک کو بدلتے چند سال بھی نہیں لگیں گے‘ حکومت ان اداروں کوکیمپس بنانے کے لیے جگہ‘ آن لائین استادوں کی سہولت اور سرٹیفکیٹ جاری کرنے کیاجازت دے دے‘ یہ ملک بدل جائے گا‘ ہمیں سمجھنا ہو گا کورونا کی وجہ سے پوری دنیا بدل چکی ہے۔کاروبار دکان سے اٹھ کر موبائل فون پر آ گیا ہے اور اس کاروبار کو اب کوڈرز بھی چاہییں اور ایپس ڈویلپرز بھی اور حکومت اگر ایڑی چوٹی کا زور بھی لگا لے تو بھی یہ مارکیٹ کی مانگ کے مطابق آئی ٹی اسپیشلسٹ تیار نہیں کر سکتی چناں چہ اسے مارکیٹ پلیئرز کی ضرورت ہے اور مارکیٹ میں اس وقت صرف مذہبی اداروں کے نیٹ ورکس منظم ہیں باقی معاشرہ بکھر چکا ہے لہٰذا آپ ان کی مدد لیں‘آپ سیلانی ٹرسٹ کی طرح انھیں ڈائریکشن دیں‘ یہ ملک بدل دیں گے ورنہ یہ بے کار ہجوم ہاتھوں میں ڈنڈے لے کر کسی نئی گستاخی کا انتظار کر رہا ہے‘ خدانخواستہ اگر اب کسی ملعون نے دنیا کے کسی کونے میں کوئی گستاخی کر دی تو یہ لاکھوں بلکہ کروڑوں لوگ ملک میں کوئی گاڑی اور کوئی شیشہ سلامت نہیں رہنے دیں گے۔آپ ان لوگوں کو کام پر لگائیں ورنہ یہ کسی کو کام کےقابل نہیں چھوڑیں گے‘ اب سوال یہ ہے کام کے لیے ٹریننگ چاہیے اور ٹریننگ کون دے گا؟ آپ یقین کریں ملک میں اس وقت مولانا تقی عثمانی‘ مولانا الیاس قادری‘ مولانا بشیر قادری اور مولانا طارق جمیل کے علاوہ کوئی ذریعہ موجود نہیں‘ یہ لوگ پاکستان کے اصل ایٹمی اثاثے ہیں‘ آپ انھیں استعمال کریں‘ اس سے قبل کہ یہ بھی ریاست کے خلاف استعمال ہونے لگیں‘ حکومت یہ فیصلہ بھی کر لےریاست 2030 تک ملک میں کسی شخص کو بے کار نہیں رہنے دے گی‘ لوگ خواہ جوئیں ہی نکالیں لیکن یہ روزانہ آٹھ گھنٹے ضرور مصروف رہیں گے اور ہم میں سے ہر شخص تھک کر گھر واپس جائے گا‘ یہ قدم انتہائی ضروری ہے۔چین نے بھی اس طریقے سے ترقی کی تھی‘ یہ آبادی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ملک تھا‘ اس نے 1980 تک کسی شخص کو بے کار نہیں بیٹھنے دیا لہٰذا یہ آج وہاں ہیں جہاں کوئی بھی نہیں اور تیسری چیز آپ مہربانی فرما کر ملک میں غباروں میں ہوا بھرنے کے لیےبھی ٹریننگ لازمی قرار دے دیں‘ یہ جو ہم کسی بھی شخص کو رائفل پکڑا کر اپنے گھر کے سامنے کھڑا کر دیتے ہیں یہ لوگ ملک کی بربادی کی سب سے بڑی وجہ ہیں‘ ملک میں بھیک مانگنے کے لیے بھی سرٹیفکیٹس لازمی ہونے چاہییں‘ ہم پھر ہی بچیں گے ورنہ ہمیں یہ اناڑی پن کھا جائے گا‘ ہم اس سے بچ گئے تو بے روزگاری کے ہاتھوں مر جائیں گے اور اگر ہم اس سے بھی بچ گئے تو پھر ہماری آبادی اتنی بڑھ جائے گی کہ لوگ لوگوں کو کھانا شروع کر دیں گے لہٰذا میں پھر عرض کر رہا ہوں‘ آنکھیں کھولیں‘ ملک کا بیڑہ غرق ہو رہا ہے‘ ہم سب ڈوب رہے ہیں اور اس بار قدرت کو بھی ہم سے زیادہ دل چسپی نہیں رہی۔


زیرو پوائنٹ

برف باری

یہ پرانی مثال ہے‘ ایک چھوٹا ہوائی جہاز کسی برفانی پہاڑ پر گرگیا‘ پائلٹ مر گیا‘ جہاز میں صرف دو مسافر سوار تھے‘ وہ دونوں بچ گئے‘ اب صورت حال یہ تھی‘ ہر طرف برف ہی برف تھی اور اس برف کے درمیان دو لوگ جہاز کے ملبے میں گرے پڑے تھے‘ دور دور تک کوئی آبادی نہیں تھی‘ خوراک ....مزید پڑھئے‎

یہ پرانی مثال ہے‘ ایک چھوٹا ہوائی جہاز کسی برفانی پہاڑ پر گرگیا‘ پائلٹ مر گیا‘ جہاز میں صرف دو مسافر سوار تھے‘ وہ دونوں بچ گئے‘ اب صورت حال یہ تھی‘ ہر طرف برف ہی برف تھی اور اس برف کے درمیان دو لوگ جہاز کے ملبے میں گرے پڑے تھے‘ دور دور تک کوئی آبادی نہیں تھی‘ خوراک ....مزید پڑھئے‎