راﺅنڈ اباﺅٹ

  منگل‬‮ 13 اپریل‬‮ 2021  |  0:01

اندر کمار گجرال بھارت کے 12 ویں وزیراعظم تھے‘ یہ 1997ءاور 1998ءکے درمیان ایک سال وزیراعظم رہے‘ اٹل بہاری واجپائی ان کے بعد وزیراعظم بنے تھے‘ گجرال جہلم میں پیدا ہوئے تھے‘ ان کی ساری تعلیم جہلم اور لاہور کی تھی اور یہ دل سے پاکستان اور بھارت کے تعلقات بہتر دیکھنا چاہتے تھے‘ میاں نواز شریف کے ساتھ ان کے رابطے تھے‘ دونوں کے پاس ایک دوسرے کے ذاتی فون نمبرز تھے اور یہ جب چاہتے تھے براہ راست ایک دوسرے سے بات کر لیتے تھے‘ گجرال صاحب کا 2012ءمیں 93سال کی عمر میں انتقال ہوا‘ یہ آخر وقت تک ذہنی اور جسمانی طور پر ایکٹو تھے‘ 20فروری 1999ءکو اٹل بہاری واجپائی لاہور کے وزٹ پر آئے تو اندر کمال گجرال نے بڑا دل چسپ تبصرہ کیا

‘ ان کا کہنا تھا واجپائی نے لاہور جا کر پاکستان میں ایک اور بھٹو کی قبر بنا دی۔

میں اس وقت جوان اور جوشیلا تھا‘میں نے اس فقرے پر قہقہہ لگا دیا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ گجرال صاحب کا تبصرہ حقیقت بنتا چلا گیا‘ واجپائی کے وزٹ کے بعد کارگل ہوا‘ جنرل پرویز مشرف آئے اور میاں نواز شریف پر طیارہ ہائی جیکنگ کا کیس بنا دیا گیا‘ میاں نواز شریف لکی تھے‘ یہ ذوالفقار علی بھٹو بنتے بنتے بچ گئے اور نائین الیون سے پہلے سعودی عرب چلے گئے‘ یہ اگر نائین الیون تک ملک میں ہوتے تو یہ بھٹو بن چکے ہوتے اور ان کے اس انجام پر کوئی ملک احتجاج نہ کرتا‘ کیوں؟ کیوں کہ دنیا کو اس وقت افغان طالبان کے خلاف جنرل پرویز مشرف کی مدد درکار تھی اور مغرب اس کے بدلے نواز شریف تو کیا دس بیس لاکھ لوگوں کی قربانی بھی آرام سے پی جاتا‘ ہم اگر آج ماضی کا تجزیہ کریں تو ہم یہ تسلیم کریں گے نواز شریف کی دوسری حکومت کے خاتمے کی بنیاد واجپائی کے قدم لاہور میں پڑتے ہی پڑ گئی تھی‘ نواز شریف اورن لیگ دونوں اسٹیبلشمنٹ کی پیداوار ہیں‘ یہ دونوں ہر بار اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے اقتدار میں آتے ہیں لیکن پھر انہیں بھارت کا کوئی نہ کوئی وزیراعظم ڈس لیتا ہے اور یہ فارغ ہو جاتے ہیں‘ 2014ءمیں بھی یہی ہوا تھا‘ نریندر مودی 16مئی 2014ءکو وزیراعظم منتخب ہوئے‘ 26مئی کو ان کی حلف برداری تھی اور میاں نواز شریف اسٹیبلشمنٹ کی مرضی کے خلاف دہلی چلے گئے۔

حسین نواز بھی لندن سے دہلی آ گئے اور یہ دونوں بعدازاں حریت کانفرنس کے لیڈروں سے ملاقات کی بجائے سجن جندال جیسے ذاتی دوستوں کے گھر چلے گئے اور یوں نریندر مودی کے ساتھ ایک ہینڈ شیک نے نواز شریف کی تیسری حکومت کی رخصتی کا فیصلہ بھی کر دیا‘ رہی سہی کسر نریندر مودی نے 25 دسمبر 2015ءکو اچانک میاں نواز شریف کے گھر آ کر پوری کر دی‘ نریندر مودی کے جاتی عمرہ میں قدم رکھتے ہی نواز شریف کی سیاسی قسمت کا حتمی فیصلہ ہو گیا اور یہ آج ریاست کے لیے ناقابل برداشت ہو چکے ہیں۔

ہم اگر کسی دن پاکستان کی تاریخ کو ٹھنڈے دماغ کے ساتھ ایک مختلف زاویے سے دیکھیں تو ایک نیا پہلو ہمارے سامنے آئے گا‘ بھارت پاکستان میں ملٹری اور پولیٹیکل کشمکش سے اچھی طرح واقف ہے چناں چہ ہم جب بھی ترقی اور خوش حالی کے راستے پر آتے ہیں تو بھارت کا کوئی نہ کوئی وزیراعظم ہماری طرف دوستی کا ہاتھ بڑھا کر سول اور ملٹری تقسیم میں اضافہ کر دیتا ہے‘ پاکستان میں لڑائی شروع ہو جاتی ہے اور ہم ایک بار پھر بدحالی اور جہالت کی نالی میں جا گرتے ہیں اور بھارت یہ ہمیشہ شرارتاً کرتا ہے۔

آپ ایوب خان سے شروع کر لیجیے‘ کیا تاشقند معاہدہ ایوب خان کے زوال کی وجہ نہیں بنا؟ لال بہادر شاستری نے تاشقند میں جھک کر ایوب خان کو سلام کیا‘ یہ دونوں الگ ملے‘ لال بہادر شاستری رات کو انتقال کر گئے اور ایوب خان کے سیاسی تابوت میں کیل لگ گیا‘ جنرل یحییٰ خان کو ڈھاکا کے پلٹن میدان میں سیز فائر ایگریمنٹ کھا گیا‘ ذوالفقار علی بھٹو بچے کھچے پاکستان کے معمار تھے لیکن یہ شملہ معاہدے کے ہاتھوں قتل ہو گئے‘ اندرا گاندھی نے ان کے ساتھ ون آن ون ملاقات کر کے ان کی قسمت بھی طے کر دی۔

جنرل ضیاءالحق مختلف انسان تھے‘ یہ افغانستان میں زیادہ ملوث تھے‘ یہ افغانستان کی وجہ سے مار کھا گئے‘ محترمہ بے نظیر بھٹو جنرل اسلم بیگ کی رضا مندی سے اقتدار میں آئیں‘ ملک دس سال کی جدوجہد کے بعد جمہوریت کی پٹڑی پر چڑھا تھا لیکن پھر دسمبر 1988ءمیں راجیو گاندھی پاکستان کے دورے پر آ گیا‘ یہ دورہ بے نظیر بھٹو کے پہلے اقتدار کو نگل گیا‘ نواز شریف کے پہلے دور میں بھارت نے نیمرانا ڈائیلاگ شروع کیے‘ نیمرانا راجستھان میں ایک قلعہ ہے۔

اس قلعے میں دونوں ملکوں کے سفارت کاروں‘ دانشوروں اور ریٹائرڈ بیوروکریٹس نے بیک ڈور ڈپلومیسی شروع کی‘ یہ ٹریک ٹو ڈپلومیسی بھی کہلائی‘ یہ ٹریک ٹو پہلے نواز شریف کی پہلی حکومت اور بعدازاں بے نظیر بھٹو کی دوسری حکومت کھا گیا‘ نواز شریف کی دوسری حکومت واجپائی نے لاہور میں قدم رکھ کر ختم کر دی‘ جنرل پرویز مشرف یونیفارم میں تھے لیکن انہیں بھی کشمیر کا تصفیہ کھا گیا‘ مشرف دور میں ملک میں اچھی خاصی خوش حالی اور استحکام آ چکا تھا۔

بھارت کو یہ استحکام اچھا نہ لگا چناں چہ من موہن سنگھ نے جنرل پرویز مشرف کو مسئلہ کشمیر کاحل دے دیا‘ جنرل مشرف نے یہ قبول کر لیا اور یوں یہ بھی فارغ ہو گئے‘ آصف علی زرداری نے بھی من موہن سنگھ کے ساتھ مل کر پاکستان اور بھارت میں دہشت گردی روکنے کا فیصلہ کیا اور اس کے بعد پیپلز پارٹی نے جس طرح پانچ سال پورے کیے یہ دنیا کے سامنے ہیں‘ نواز شریف کے تیسرے دور کو بھی نریندر مودی لے بیٹھے اور اب عمران خان کی باری ہے۔

عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ دونوں ایک پیج پر ہیں لیکن نریندر مودی نے 23 مارچ 2021ءکو عمران خان کو ایک خط لکھا اور اس کے بعد ملک میں جو کچھ ہوا وہ اب ڈھکی چھپی بات نہیں‘ وزیراعظم نے وزیر تجارت کی حیثیت سے 31 مارچ کو ای سی سی میں بھارت سے چینی‘ کپاس اور دھاگا امپورٹ کرنے کی اجازت دی اور اگلے دن بطور وزیراعظم یہ اجازت واپس لے لی‘ کیوں؟ کیوں کہ وزیراعظم کے پاس دوسرا آپشن نہیں تھامگر اس کے باوجود اب ان کی جان نہیں چھوٹے گی‘ جہانگیر ترین کی شکل میں تلوار ان کے سر پر لٹکا دی گئی ہے‘ یہ ہلے نہیں اور تلوار گری نہیں۔

میں اپنے اس تھیسس پر زور نہیں دیتا لیکن سوچنے اور غور کرنے میں کیا حرج ہے؟ یہ عین ممکن ہے ہم جب بھی ایک ہو جاتے ہوں‘ سول اور ملٹری تقسیم جب بھی کم ہو جاتی ہو اور ہم ترقی کی شاہراہ پر پہنچنے لگتے ہوں‘ ملک میں خوش حالی اور استحکام آنے لگتا ہو اور بھارت شرارتاً ہماری طرف دوستی کا ہاتھ بڑھا دیتا ہو اور ہم ایک دوسرے سے برسرپیکار ہو جاتے ہوں اور اس لڑائی کے نتیجے میں دودھ کی بھری بالٹی الٹ جاتی ہو‘ ہم دوبارہ زیرو پر آ جاتے ہوں‘ آپ ایک بار اس نقطے پر بھی سوچ لیں۔

ہو سکتا ہے یہ بھارت کی سفارتی حکمت عملی ہو‘ ہمیں جب بھی کوئی ایسا لیڈر ملتا ہو جو ملک کے مسائل حل کر سکتا ہو‘ جو سیاسی پولرائزیشن ختم کر سکتا ہو تو بھارت اپنے وزیراعظم کو آگے بڑھا دیتا ہو اور اس کے بعد ملک میں اوئے اوئے ہو جاتی ہو‘ میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ ایک ہیں لیکن آج اگر نریندر مودی عمران خان کو فون کر لے یا یہ کسی انٹرنیشنل فورم پر عمران خان کی طرف ہاتھ بڑھا دے یا ان کی تعریف کر دے تو کل یہ حکومت گر جائے گی اور عمران خان کا انجام بھی میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری جیسا ہو گا‘ آپ اندازہ کر لیجیے ہم‘ ہماری حکومتیں اور ہمارا سول ملٹری ریلیشن شپ کتنا کم زور ہے‘ بھارت کا وزیراعظم صرف ایک بیان‘ ایک سلام‘ ایک ٹیلی فون اور ایک ملاقات سے یہ تعلق ختم کر سکتا ہے لہٰذا ہمیں اس نقطے کو بھی ذہن میں رکھ کر اپنی حکمت عملی بنانا ہوگی۔

ہمیں آج ایک دوسری حقیقت بھی ماننا ہو گی‘ ہم 73 برسوں میں اپنی پالیسی فکس نہیں کر سکے‘ ملک میں تین یا چھ سال بعد تقرری ہوتی ہے اور ہماری پوری سفارتی پالیسی تبدیلی ہو جاتی ہے‘ آپ جنرل ضیاءالحق سے لے کر آج تک اپنی سفارتی پالیسیوں کا اتار چڑھاﺅ دیکھ لیں‘ ہم 180 کے زاویے پر شفٹ ہو تے چلے آ رہے ہیں‘ ہمیں کبھی طالبان میں قرون وسطیٰ کے مجاہد نظر آنے لگتے ہیں اور ہم کبھی ان طالبان کے خلاف جہاد شروع کر دیتے ہیں۔

روس کبھی اسلام کا دشمن ہوتا ہے اور ہم کبھی اپنے دروازے کھول کر اس کا انتظار شروع کر دیتے ہیں‘ ہم نے امریکا کے ساتھ بھی لَواینڈ ہیٹ ریلیشن شپ میں بہت وقت ضائع کر دیا اور ہم بھارت کے ساتھ تعلقات میں بھی کلیئر نہیں ہیں‘ ہمیں کم از کم اب اپنی پالیسی واضح کر لینی چاہیے‘ بھارت اگر ہمارا دشمن ہے تو پھر یہ ہے‘ ہمیں پھر اس کے ساتھ دشمن جیسے تعلقات رکھنے ہوں گے اور ہم اگر اس کے اچھے ہمسائے بننا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں ایک ہی بار رائفل نیچے رکھنی ہو گی‘ ہم آخر کب تک رائفل اٹھاتے اور نیچے رکھتے رہیں گے۔

آپ یہ یاد رکھیں شیطان یا مومن دونوں کسی نہ کسی مقام پر پہنچ جاتے ہیں لیکن کنفیوز قوم ہو یا شخص یہ راﺅنڈ اباﺅٹ پر چکر لگا لگا کر ختم ہو جاتا ہے اور ہم تاریخ کے راﺅنڈ اباﺅٹ پر چکر لگاتے چلے جا رہے ہیں‘ ہمارے ٹائرز گھس چکے ہیں مگر ہم اس کے باوجود باز نہیں آ رہے‘ ہمیں اپنے آپ کو کلیئر بھی کرنا ہوگا اور یہ بھی ماننا ہو گا اہل مغرب بھی کسی اسلامی ملک کو ترقی یافتہ نہیں دیکھنا چاہتے‘ یہ ترکی اور ملائیشیا کو ہضم نہیں کر سکے جب کہ ہم تو ایٹمی طاقت بھی ہیں‘ یہ ہمیں کیسے برداشت کریں گے چناں چہ میری درخواست ہے حالات کو دیکھیں اور آنکھیں کھولیں‘ تاریخ کے راﺅنڈاباﺅٹ سے آگے نکلیں‘ اس سے پہلے کہ ہم پیچھے جانے کے قابل بھی نہ رہیں۔


زیرو پوائنٹ

درمیان

یہ ایک ڈاکٹر کی کہانی ہے‘ ڈاکٹر صاحب اس وقت آسٹریلیا میں ہیں اور یہ وہاں ایسی شان دار زندگی گزار رہے ہیں جس کا ان کے کسی کلاس فیلو نے خواب تک نہیں دیکھا تھا‘ ہم سب لوگ زندگی میں ٹاپ کرنا چاہتے ہیں‘ ہم ہر کلاس میں اول آنا چاہتے ہیں‘ ہم بازار کا مہنگا ترین لباس خریدنا ....مزید پڑھئے‎

یہ ایک ڈاکٹر کی کہانی ہے‘ ڈاکٹر صاحب اس وقت آسٹریلیا میں ہیں اور یہ وہاں ایسی شان دار زندگی گزار رہے ہیں جس کا ان کے کسی کلاس فیلو نے خواب تک نہیں دیکھا تھا‘ ہم سب لوگ زندگی میں ٹاپ کرنا چاہتے ہیں‘ ہم ہر کلاس میں اول آنا چاہتے ہیں‘ ہم بازار کا مہنگا ترین لباس خریدنا ....مزید پڑھئے‎