اسلام آباد (نیوز ڈیسک) دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز میں کپتان پر حملے کے واقعے سے متعلق تحقیقات میں
حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ معاون پائلٹ مبینہ طور پر طیارے کو ہائی جیک کرکے اسرائیل کے بن گوریون ایئرپورٹ کی مسافر عمارت سے ٹکرانے کا منصوبہ بنا رہا تھا۔
تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق 30 ستمبر کو پیش آنے والے واقعے میں ملوث معاون پائلٹ کا تعلق عمان سے بتایا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملزم 2017 میں آسٹریلیا میں تعلیم حاصل کرنے کے دوران انتہا پسندانہ نظریات سے متاثر ہوا، تاہم ایئرلائن میں ملازمت کے لیے بھرتی کے وقت اس کی سکیورٹی جانچ میں کوئی مشکوک بات سامنے نہیں آئی تھی۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ملزم 11 ستمبر 2001 کے امریکا میں ہونے والے حملوں سے متاثر تھا اور اسی طرز پر طیارے کے ذریعے حملہ کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔ تحقیقات کے مطابق وہ ماضی میں دو مرتبہ تل ابیب بھی جا چکا تھا، جہاں اس نے پرواز کے راستے اور ہوائی اڈے سے متعلق معلومات حاصل کی تھیں۔
حکام کے مطابق دورانِ پرواز معاون پائلٹ نے کاک پٹ میں کپتان پر کلہاڑی سے حملہ کیا۔ تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ ملزم نے وکیل کی موجودگی میں اپنے منصوبے اور حملے سے متعلق اعترافی بیان بھی دیا ہے۔
تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکام کے ابتدائی نتائج کے مطابق اس منصوبے میں معاون پائلٹ نے اکیلے کام کیا، تاہم اس کے ممکنہ سہولت کاروں یا دیگر رابطوں کے بارے میں تحقیقات اب بھی جاری ہیں۔ اماراتی استغاثہ اس پہلو کا جائزہ لے رہا ہے کہ آیا اس معاملے میں کوئی اور شخص بھی ملوث تھا۔
واقعے کے دوران طیارے کے کپتان، عملے کے ایک رکن اور مسافروں نے ملزم کو قابو کرنے میں کردار ادا کیا، جس کے بعد پرواز کا رخ سعودی عرب کی جانب موڑ دیا گیا۔ طیارے کو سعودی شہر تبوک میں بحفاظت اتار لیا گیا تھا۔
حکام کی جانب سے واقعے کے تمام پہلوؤں کی چھان بین جاری ہے، جبکہ تحقیقات کے حتمی نتائج سامنے آنے کے بعد مزید تفصیلات واضح ہونے کی توقع ہے۔



















































