ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

نیپال میں بپھرا ہوا سیلاب سیکڑوں سیاحوں کو بہا لے گیا، 300 سے زائد ہلاکتیں، سیکڑوں لاپتا

datetime 27  اگست‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈ ٰیسک) نیپال اور تبت کے سرحدی علاقے میں اچانک آنے والے شدید سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے کے باعث بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔

قدرتی آفت کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 300 سے تجاوز کرگئی جبکہ بڑی تعداد میں افراد کے لاپتا ہونے کی اطلاعات ہیں۔نیپال کے ٹورازم بورڈ کے مطابق لاپتا افراد میں سیکڑوں سیاح بھی شامل ہیں، جن میں 100 سے زائد بھارتی اور 12 برطانوی شہری بتائے جارہے ہیں۔ حکام کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے۔تبت سے جاری ہونے والی سی سی ٹی وی فوٹیج میں سیلابی پانی اور کیچڑ کا ایک انتہائی طاقتور ریلا سرحدی گزرگاہ کی عمارتوں سے ٹکراتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ نیپال سے سامنے آنے والی تصاویر میں بھی لوگوں کو اچانک آنے والے سیلابی ریلے سے بچنے کے لیے محفوظ مقامات کی طرف بھاگتے دیکھا جاسکتا ہے۔

نیپالی وزیر خارجہ نے امکان ظاہر کیا ہے کہ اس تباہ کن صورتحال کے پیچھے زلزلے کے باعث برفانی تودہ گرنے کا واقعہ ہوسکتا ہے۔ تاہم قدرتی آفت کی اصل وجہ جاننے کے لیے متعلقہ اداروں کی تحقیقات جاری ہیں۔دوسری جانب تبت میں صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر چینی صدر شی جن پنگ نے حکام کو ہنگامی اقدامات سے متعلق ہدایات جاری کردی ہیں۔ چینی حکام نے امدادی سرگرمیوں میں تیزی لانے اور متاثرہ لوگوں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے پر زور دیا ہے۔نیپال میں موجودہ سانحے کو 2015 کے تباہ کن زلزلے کے بعد ملک کی بڑی قدرتی آفات میں سے ایک قرار دیا جارہا ہے۔ 2015 کے زلزلے میں تقریباً 9 ہزار افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔ریسکیو اداروں کے لیے سب سے بڑا مسئلہ دشوار گزار پہاڑی راستے، خراب موسمی حالات اور سیلاب کے باعث متاثرہ علاقوں تک رسائی میں مشکلات ہیں۔امدادی ٹیمیں لاپتا سیاحوں اور دیگر متاثرین کی تلاش میں مصروف ہیں، جبکہ حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ دور دراز علاقوں تک رسائی نہ ہونے کے باعث ہلاکتوں اور لاپتا افراد کی تعداد میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔



کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…