جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

ایران جنگ میں نیا خطرہ، کندھے پر رکھ کر چلنے والے میزائل امریکی فضائی طاقت کیلئے نیا چیلنج قرار

datetime 16  اپریل‬‮  2026 |

نئی دہلی (این این آئی)ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی میں ایک نیا خطرہ سامنے آیا ہے،

بھارتی میڈیا کی جانب سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایران کو 1000 سے زائد مین پیڈز (کندھے پر رکھ کر چلنے والے اینٹی ایئر کرافٹ میزائل)مل سکتے ہیں جنہیں مبینہ طور پر چین کی جانب سے خفیہ راستوں سے فراہم کیا جا رہا ہے۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران پہلے ہی امریکی جنگی طیاروں کو نشانہ بنانے میں کامیاب رہا ہے۔3 اپریل کو ایک ایف-15 ای اسٹرائیک ایگل اور اے-10 وارتھاگ مار گرائے گئے تھے جبکہ ایک جدید ایف-35 طیارے کو بھی نقصان پہنچا تھا، اس کے علاوہ ایران نے امریکی ایندھن بردار طیاروں اور ایک ارب ڈالرز مالیت کے ای-3 سینٹری ریڈار طیارے کو بھی نشانہ بنایا تھا۔این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مین پیڈز سادہ مگر موثر ہتھیار ہیں جو ایک فرد آسانی سے استعمال کر سکتا ہے، یہ حرارت کو نشانہ بنانے والے میزائل ہوتے ہیں جو کم بلندی پر پرواز کرنے والے طیاروں کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوتے ہیں، ان کی رینج تقریبا 5 کلومیٹر تک ہوتی ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق فی الحال امریکا کو فضائی برتری حاصل ہے تاہم اگر زمینی جنگ شروع ہوتی ہے تو یہ میزائل امریکی طیاروں کے لیے بڑا خطرہ بن سکتے ہیں، خاص طور پر جب طیارے نچلی پرواز کر کے زمینی فوج کی مدد کرتے ہیں۔واضح رہے کہ دوسری جانب چین نے ایران کو ہتھیار فراہم کرنے کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں من گھڑت قرار دیا ہے تاہم امریکی انٹیلیجنس کے مطابق ممکنہ طور پر یہ ہتھیار کسی تیسرے ممالک کے ذریعے ایران پہنچائے جا سکتے ہیں ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین سے اپیل کی ہے کہ وہ ایران کو اسلحہ فراہم نہ کرے جبکہ خبردار بھی کیا ہے کہ ایسا کرنے والے ممالک پر 50 فیصد ٹیرف عائد کیا جا سکتا ہے۔بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹس میں بتایا جا رہا ہے کہ ایران نے چینی سیٹلائٹ اور ٹیکنالوجی کی مدد سے امریکی اہداف کو نشانہ بنایا جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق اگر ایران کو بڑی تعداد میں یہ میزائل مل جاتے ہیں تو خاص طور پر زمینی کارروائی کی صورت میں یہ جنگ کا رخ بدل سکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…