اسلام آباد (نیوز ڈیسک) الٰہ آباد ہائی کورٹ نے ایک اہم مقدمے میں قرار دیا ہے کہ اگر کوئی شادی شدہ مرد کسی بالغ خاتون کے ساتھ رضامندی سے ’لیو اِن ریلیشن‘ میں رہتا ہے تو اسے جرم نہیں کہا جا سکتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ سماجی اقدار اور اخلاقی بحث کو قانونی فیصلوں سے الگ رکھا جانا چاہیے۔
عدالت کے مطابق جب تک کسی عمل کو قانون کے تحت جرم ثابت نہ کیا جائے، محض ایسے تعلق کی بنیاد پر کسی فرد کو قصوروار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ یہ ریمارکس ایک درخواست کی سماعت کے دوران سامنے آئے، جس میں ایک جوڑے نے اپنے خلاف درج مقدمہ ختم کرنے کی استدعا کی تھی۔ درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا کہ خاتون اپنی مرضی سے اس رشتے میں ہیں اور دونوں بالغ ہیں۔
دوسری جانب خاتون کے اہل خانہ نے اس تعلق پر اعتراض کرتے ہوئے اسے غیر اخلاقی قرار دیا اور مبینہ طور پر دھمکیاں بھی دیں، جس کے باعث جوڑے نے اپنی جان کو خطرہ لاحق ہونے کا خدشہ ظاہر کیا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ خاتون نے شاہجہاں پور کے پولیس حکام کو درخواست دی تھی، تاہم اب تک مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ اس پر عدالت نے پولیس کو ہدایت دی کہ وہ جوڑے کو تحفظ فراہم کرے۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ اگر کوئی عمل قانون کے دائرے میں جرم نہیں بنتا تو معاشرتی رائے یا اخلاقی نقطہ نظر کو عدالتی فیصلے پر اثر انداز نہیں ہونا چاہیے۔



















































