منگل‬‮ ، 24 مارچ‬‮ 2026 

امریکی صدر کا ایران کے پاور پلانٹس اور توانائی کے انفراسٹرکچر پر حملے 5دن کیلئے مؤخر کر نے کااعلان

datetime 24  مارچ‬‮  2026 |

واشنگٹن /فلوریڈا/تہران(این این آئی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کی ڈیڈلائن ختم ہونے سے پہلے ایران کے پاور پلانٹس اور

توانائی کے انفراسٹرکچر پر حملے پانچ دن کیلئے مؤخر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران سے مثبت اور نتیجہ خیز بات ہوئی ہے،ایرانی حکام سے یہ مذاکرات پورے ہفتے جاری رہیں گے ،ایران اور امریکا دونوں ڈیل کرنا چاہتے ہیں، اسرائیل سے بات ہوگئی ہے، وہ تازہ پیشرفت پر خوش ہے،نہیں جانتا نئے ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں یا نہیں؟ مجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں کچھ نہیں سنا، نہیں چاہتا مجتبیٰ خامنہ ای کو قتل کیا جائیجبکہ ایران نے ٹرمپ کی جانب سے مذاکرات کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا مقصد توانائی کی قیمتوں کو کم کرنا اور اپنے فوجی منصوبوں پر عملدرآمد کے لیے وقت حاصل کرنا ہے۔ منگل کو سوشل میڈیا پر جاری بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاکہ مجھے بتاتے ہوئے خوشی ہورہی ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان گزشتہ 2 دنوں کے دوران نہایت مثبت اور نتیجہ خیز بات چیت ہوئی ہے جس کا مقصد مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کا مکمل اور حتمی حل تلاش کرنا ہے۔ٹرمپ نے کہا کہ ان گہرے، تفصیلی اور تعمیری مذاکرات کو مدنظر رکھتے ہوئے جو میں نے محکمہ جنگ کو ہدایت دی ہے کہ ایران کے بجلی گھروں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کو 5 دن کے لیے مؤخر کر دیا جائے۔امریکی صدر نے کہا کہ یہ فیصلہ جاری ملاقاتوں اور بات چیت کی کامیابی سے مشروط ہوگا۔انہوںنے کہاکہ ایرانی حکام سے یہ مذاکرات پورے ہفتے جاری رہیں گے۔انہوںنے کہاکہ میں خوشی کے ساتھ اطلاع دیتا ہوں کہ ریاستہائے متحدہ امریکہ اور ایران کے درمیان گزشتہ دو دنوں کے دوران نہایت مثبت اور نتیجہ خیز بات چیت ہوئی ہے، جس کا مقصد مشرقِ وسطیٰ میں جاری ہماری کشیدگی کا مکمل اور حتمی حل تلاش کرنا ہے۔ٹرمپ نے کہا کہ یہ فیصلہ جاری بات چیت کی کامیابی سے مشروط ہے اور اگر مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھتے رہے تو مزید پیش رفت متوقع ہے۔ دریں اثناء میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران اور امریکا دونوں ڈیل کرنا چاہتے ہیں، اسرائیل سے بات ہوگئی ہے،

وہ تازہ پیشرفت پر خوش ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران نے خود مذاکرات کیلئے رابطہ کیا تھا، ایران کو اس کے جہازوں پر بھرا تیل فروخت کرنے کی اجازت دی ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ چیزیں بہت اچھے طریقے سے آگے بڑھ رہی ہیں، امریکی وفد اور ایرانی نمائندوں کے درمیان انتہائی گہری اور تفصیلی بات چیت ہوئی، امریکی وفد میں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل تھے، ایران شدت سے معاہدہ کرنا چاہتا ہے، معاہدہ آئندہ 5 دن یا اس سے بھی پہلے ہو سکتا ہے۔امریکی صدر نے کہا کہ امید ہے کہ ایران کے معاملے کو حل کرلیا جائے گا،ایران 47 سال سے خطرہ تھا، امریکا ایران مذاکرات میں دونوں ملک کئی نکات پر راضی ہیں، 15 نکات پر ایران سے بات چیت چل رہی ہے، نکات میں سرفہرست ہے کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہوں گے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ہونے کی گارنٹی نہیں دے سکتا۔ اگر ڈیل ہوئی تو خطے اور ایران کے لیے اچھا آغاز ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ا مریکا ایران مذاکرات میں دونوں ملک کئی نکات پر راضی ہیں، اگر ڈیل ہوگئی تو ایران کا افزودہ یورینیم امریکی استعمال میں لائیں گے۔امریکی صدر نے کہا کہ اگر بی 52 بمبار سے حملہ نہ کرتے تو ایران چند ہفتوں میں ایٹمی ہتھیار بنا لیتا۔صحافی کی جانب سے سوال کیا گیا کہ کیا امریکی فوجی ایران میں داخل ہوں گے، جس پر ٹرمپ نے جواب دیا کہ ہم حکمت عملی پر بات نہیں کرتے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ خامنہ ای قتل ہوچکے ہیں اور ان کے بیٹے کو میں لیڈر نہیں سمجھتا، ایران کے قابل احترام لیڈر سے بات ہوئی ہے، نہیں جانتا، نئے ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں یا نہیں؟ مجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں کچھ نہیں سنا، نہیں چاہتا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کو قتل کیا جائے۔دوسری جانب ایران نے ٹرمپ کی جانب سے مذاکرات کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد توانائی کی قیمتوں کو کم کرنا اور اپنے فوجی منصوبوں پر عملدرآمد کے لیے وقت حاصل کرنا ہے۔ایرانی میڈیا کے مطابق وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان کسی قسم کی کوئی بات چیت نہیں ہو رہی۔ایرانی وزارت خارجہ نے کہاکہ امریکی صدر ٹرمپ کے بیانات کا مقصد توانائی کی قیمتوں کو کم کرنا اور اپنے فوجی منصوبوں پر عملدرآمد کے لیے وقت حاصل کرنا ہے۔بیان میں کہا گیا کہ خطے کے کچھ ممالک کشیدگی کم کرنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں، علاقائی ممالک کی جانب سے کچھ تجاویز سامنے آئی ہیں تاہم ان تمام تجاویز اور درخواستوں کا رخ واشنگٹن کی طرف موڑنا چاہیے، ہمارا جواب واضح ہے کہ ہم وہ فریق نہیں جس نے یہ جنگ شروع کی۔

ایرانی میڈیا کے مطابق ایک سینئر ایرانی سکیورٹی عہدیدار نے بھی کہا کہ واشنگٹن اور تہران میں کوئی بات چیت نہیں ہورہی۔سینئر سکیورٹی عہدیدار نے ٹرمپ کے بیان کو نفسیاتی جنگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے جوابی حملوں کی دھمکی نے امریکا کو حملے ملتوی کرنے پر مجبورکیا۔یاد رہے کہ اس سے پہلے ٹرمپ نے ایران کو ابنائے ہرمز کھولنے کے لیے 48 گھنٹے کا الٹی میٹم دیا تھا جو پاکستانی وقت کے مطابق پیر کی صبح سات بجے ختم ہو گیا، ٹرمپ نے ایرانی بجلی گھروں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی۔ایرانی پاسداران انقلاب نے واضح کیا تھا کہ بجلی نظام کو نشانہ بنایا گیا تو اسرائیلی بجلی گھرسمیت امریکی اڈوں کوبجلی فراہم کرنے والے پاور پلانٹس کونشانہ بنائیں گے ، ایرانی ساحل یا جزائر پر حملہ ہوا تو خلیج فارس میں تمام مواصلاتی راستوں کو بارودی سرنگوں سے بھر دیا جائے گا۔دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی و اضح کیا کہ کسی بھی حملے کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گاایران کو نقشے سے مٹانے کا وہم دشمن کی مایوسی کا ثبوت ہے، دھمکیاں اور دہشتگردی کے حربے ایرانی قوم کو کمزور نہیں مزید مضبوط کررہے ہیں، آبنائے ہرمز ہماری خود مختاری کا احترام کرنے والے تمام ملکوں کیلئے کھلی ہے۔



کالم



مذہب کی جنگ(آخری حصہ)


اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…