واشنگٹن (نیوز ڈیسک): ایران کے خلاف جاری امریکی کارروائیوں کے اخراجات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، اور اب تک اس مہم پر تقریباً 12 ارب ڈالر خرچ کیے جا چکے ہیں،
جبکہ حکام کی جانب سے حملوں میں مزید شدت لانے کے اشارے بھی دیے گئے ہیں۔وائٹ ہاؤس کی نیشنل اکنامک کونسل کے سربراہ کیون ہیسیٹ نے ایک امریکی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ 28 فروری سے شروع ہونے والی اس مہم کے دوران بھاری مالی وسائل صرف ہوئے ہیں۔ پروگرام کی میزبان نے اس جانب بھی توجہ دلائی کہ جنگ کے ابتدائی دنوں میں ہی اسلحے پر اربوں ڈالر خرچ ہو چکے تھے، تاہم اس حوالے سے مکمل وضاحت سامنے نہیں آ سکی۔دوسری جانب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے عندیہ دیا ہے کہ ایران کے خلاف فضائی کارروائیوں میں نمایاں اضافہ کیا جا سکتا ہے، جس سے اخراجات مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
ادھر ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز بند کرنے کی دھمکی نے عالمی منڈیوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے، کیونکہ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اسی سمندری راستے کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔
تاہم امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ چونکہ امریکا خود بھی توانائی پیدا کرنے والا ایک بڑا ملک بن چکا ہے، اس لیے ایران کی ممکنہ کارروائیوں کے اثرات ماضی کی نسبت کم ہوں گے۔
اس دوران جنگ کے مقاصد پر بھی بحث جاری ہے، کیونکہ ابتدا میں امریکی انتظامیہ نے ایران کے جوہری پروگرام کو ہدف بنانے کا اعلان کیا تھا، بعد ازاں میزائل صلاحیتوں کو نشانہ بنانے کی بات کی گئی، اور اب تیل کی تنصیبات پر حملوں کے امکانات کا ذکر کیا جا رہا ہے، جس سے حکمت عملی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
Kevin Hassett, Director of the US National Economic Council, said US military strikes on Iran have cost about $12 billion so far.
“The latest number I was briefed on was 12.” pic.twitter.com/kjq2sJpGTe
— Clash Report (@clashreport) March 15, 2026



















































