اسلام آباد (نیوز ڈیسک): ایران کے نومنتخب سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کا منصب سنبھالنے کے بعد پہلا پیغام سامنے آ گیا ہے،
جس میں انہوں نے ایران کے شہدا کے خون کا بدلہ لینے کا عزم ظاہر کیا ہے اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں کے خلاف سخت مؤقف اپنایا ہے۔اپنے آڈیو پیغام میں مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ ایران اپنے شہدا کو فراموش نہیں کرے گا، خاص طور پر مناب اسکول میں جان گنوانے والوں کا بدلہ ضرور لیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ دشمن کو ایرانی شہریوں کے خون کا حساب دینا پڑے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں دباؤ بڑھانے کے لیے آبنائے ہرمز کو بند رکھنا ضروری ہے اور اس حوالے سے ایران اپنے مؤقف پر قائم رہے گا۔ ان کے مطابق ایرانی قیادت اور عوام کے درمیان رابطہ مضبوط رہے گا اور یہی اتحاد دشمن کے خلاف طاقت بنے گا۔نئے سپریم لیڈر نے کہا کہ ان کا عہدہ بڑی ذمہ داریوں کا تقاضا کرتا ہے کیونکہ دشمن ایران کے عوام کو نشانہ بنا رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ قومی اتحاد کے ذریعے مخالف قوتوں کا مقابلہ کیا جائے گا۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ عوام کی حمایت کے بغیر ان کی کوئی حیثیت نہیں اور ایرانی قوم کا اتحاد ہمیشہ قائم رہے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ دنیا نے دیکھ لیا ہے کہ ایرانی قوم ایک مضبوط اور باوقار قوم ہے۔
انہوں نے مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو ایران کی جانب سے حملے جاری رہ سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات کا خواہاں ہے، تاہم خطے میں موجود فوجی اڈوں کو نشانہ بنانا جاری رکھا جائے گا۔
اپنے پیغام میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایرانی فورسز نے دشمن کو ایران پر حاوی ہونے کا موقع نہیں دیا اور مخالف قوتیں جھوٹے پروپیگنڈے کا سہارا لے رہی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آیت اللہ خامنہ ای کو 10 رمضان کو قرآن کی تلاوت کے دوران نشانہ بنایا گیا تھا، تاہم مشکل حالات میں بھی ایرانی قوم نے ہمیشہ دانشمندانہ فیصلے کیے اور ایرانی افواج نے دشمن کو بھرپور جواب دیا۔



















































