ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

کابل میں 25ڈالر میں ملنے والا پاکستانی ویزا بلیک میں 1800ڈالر تک ملنے لگا

datetime 26  فروری‬‮  2026 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)افغان شہریوں کے لیے پاکستانی ویزوں کی محدود دستیابی کے بعد کابل میں غیرقانونی ایجنٹس کی چاندی ہو گئی ہے۔

جو ویزا سرکاری طور پر تقریباً 25 ڈالر (لگ بھگ 6,989 روپے) میں ملتا تھا، وہی اب بلیک مارکیٹ میں 1,800 ڈالر (تقریباً 5 لاکھ 3 ہزار روپے) تک فروخت کیا جا رہا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق کابل سے تعلق رکھنے والی ایک نوجوان خاتون عاصمہ اور ان کے والد کو اسلام آباد سفر کے لیے مقررہ فیس سے کہیں زیادہ رقم ادا کرنا پڑی۔ عاصمہ کا اصل مقصد پاکستان میں قیام نہیں بلکہ سوئٹزرلینڈ میں موجود اپنے منگیتر سے ملنے کے لیے ویزا انٹرویو دینا تھا۔ چونکہ سوئس سفارت خانے میں ذاتی حاضری لازمی تھی اور قریبی آپشن پاکستان تھا، اس لیے انہیں پہلے پاکستانی ویزا درکار تھا۔عاصمہ نے بتایا کہ سرکاری طریقہ کار کے ذریعے کئی ماہ کوشش کے باوجود ویزا حاصل نہ ہو سکا، جس کے بعد انہوں نے نجی ایجنسی کا سہارا لیا۔ کابل میں ایک ٹریول ایجنسی کو 1,600 ڈالر ادا کیے گئے جس نے تیز پراسیسنگ کا وعدہ کیا۔ افغانستان میں غیر شادی شدہ خواتین کے سفر سے متعلق سخت قوانین کے باعث ان کے والد کو بھی ساتھ درخواست دینا پڑی، یوں مجموعی طور پر 3,200 ڈالر خرچ ہوئے۔ تین روز بعد انہیں ویزے واٹس ایپ کے ذریعے موصول ہو گئے، تاہم یہ عمل سرکاری چینل کے بجائے ذاتی رابطوں کے ذریعے مکمل ہوا۔رپورٹ کے مطابق عاصمہ کا معاملہ کوئی الگ مثال نہیں۔ کابل میں پاکستانی ویزوں کی غیرقانونی خرید و فروخت ایک منظم شکل اختیار کر چکی ہے۔

متعدد درخواست گزار 1,300 سے 1,800 ڈالر تک ادا کر رہے ہیں، حالانکہ سرکاری فیس اس سے کئی گنا کم ہے۔واضح رہے کہ افغان شہریوں کے لیے پاکستانی ویزا فیس تقریباً 25 ڈالر ہے اور درخواست کا عمل مکمل طور پر آن لائن نظام کے تحت انجام پاتا ہے۔ تاہم کئی درخواست دہندگان کا کہنا ہے کہ سرکاری پورٹل کے ذریعے جمع کرائی گئی درخواستیں طویل انتظار کے بعد مسترد ہو جاتی ہیں یا کوئی جواب موصول نہیں ہوتا، جس کے باعث لوگ مجبوراََ مہنگے اور غیرقانونی ذرائع اختیار کر رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…