اسلام آباد(نیوز ڈیسک)افغان شہریوں کے لیے پاکستانی ویزوں کی محدود دستیابی کے بعد کابل میں غیرقانونی ایجنٹس کی چاندی ہو گئی ہے۔
جو ویزا سرکاری طور پر تقریباً 25 ڈالر (لگ بھگ 6,989 روپے) میں ملتا تھا، وہی اب بلیک مارکیٹ میں 1,800 ڈالر (تقریباً 5 لاکھ 3 ہزار روپے) تک فروخت کیا جا رہا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق کابل سے تعلق رکھنے والی ایک نوجوان خاتون عاصمہ اور ان کے والد کو اسلام آباد سفر کے لیے مقررہ فیس سے کہیں زیادہ رقم ادا کرنا پڑی۔ عاصمہ کا اصل مقصد پاکستان میں قیام نہیں بلکہ سوئٹزرلینڈ میں موجود اپنے منگیتر سے ملنے کے لیے ویزا انٹرویو دینا تھا۔ چونکہ سوئس سفارت خانے میں ذاتی حاضری لازمی تھی اور قریبی آپشن پاکستان تھا، اس لیے انہیں پہلے پاکستانی ویزا درکار تھا۔عاصمہ نے بتایا کہ سرکاری طریقہ کار کے ذریعے کئی ماہ کوشش کے باوجود ویزا حاصل نہ ہو سکا، جس کے بعد انہوں نے نجی ایجنسی کا سہارا لیا۔ کابل میں ایک ٹریول ایجنسی کو 1,600 ڈالر ادا کیے گئے جس نے تیز پراسیسنگ کا وعدہ کیا۔ افغانستان میں غیر شادی شدہ خواتین کے سفر سے متعلق سخت قوانین کے باعث ان کے والد کو بھی ساتھ درخواست دینا پڑی، یوں مجموعی طور پر 3,200 ڈالر خرچ ہوئے۔ تین روز بعد انہیں ویزے واٹس ایپ کے ذریعے موصول ہو گئے، تاہم یہ عمل سرکاری چینل کے بجائے ذاتی رابطوں کے ذریعے مکمل ہوا۔رپورٹ کے مطابق عاصمہ کا معاملہ کوئی الگ مثال نہیں۔ کابل میں پاکستانی ویزوں کی غیرقانونی خرید و فروخت ایک منظم شکل اختیار کر چکی ہے۔
متعدد درخواست گزار 1,300 سے 1,800 ڈالر تک ادا کر رہے ہیں، حالانکہ سرکاری فیس اس سے کئی گنا کم ہے۔واضح رہے کہ افغان شہریوں کے لیے پاکستانی ویزا فیس تقریباً 25 ڈالر ہے اور درخواست کا عمل مکمل طور پر آن لائن نظام کے تحت انجام پاتا ہے۔ تاہم کئی درخواست دہندگان کا کہنا ہے کہ سرکاری پورٹل کے ذریعے جمع کرائی گئی درخواستیں طویل انتظار کے بعد مسترد ہو جاتی ہیں یا کوئی جواب موصول نہیں ہوتا، جس کے باعث لوگ مجبوراََ مہنگے اور غیرقانونی ذرائع اختیار کر رہے ہیں۔



















































