اسلام آباد (نیوز ڈ یسک) امریکا اور روس کے درمیان جوہری ہتھیاروں پر کنٹرول سے متعلق آخری اہم معاہدہ بھی ختم ہو گیا ہے، جس کے بعد عالمی سطح پر کشیدگی میں اضافے کے خدشات سامنے آ رہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان جوہری اسلحے کی تعداد محدود رکھنے والا معاہدہ ’’نیو اسٹارٹ‘‘ اپنی مقررہ مدت پوری ہونے کے بعد ختم ہو چکا ہے۔ اس معاہدے کے خاتمے کے ساتھ ہی امریکا اور روس کے درمیان اسٹریٹیجک جوہری کنٹرول سے متعلق کوئی بھی مؤثر معاہدہ باقی نہیں رہا۔غیر ملکی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ معاہدے کی میعاد ختم ہونے سے قبل نہ تو اس میں توسیع پر اتفاق ہو سکا اور نہ ہی کسی نئے یا متبادل فریم ورک پر پیش رفت ممکن ہو پائی۔ اس صورتحال نے عالمی سلامتی سے متعلق خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔اس حوالے سے روسی صدر کے معاون یوری اوشاکوف نے بیان دیا ہے کہ روس سفارتی ذرائع کے ذریعے اسٹریٹیجک استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے، تاہم موجودہ حالات میں نیو اسٹارٹ معاہدے کی شرائط اب قابلِ اطلاق نہیں رہیں۔
رپورٹ کے مطابق معاہدے کے خاتمے سے ایک روز قبل روسی وزارتِ خارجہ نے بھی اعلان کیا تھا کہ نیو اسٹارٹ کے تحت دونوں ممالک کسی بھی ذمہ داری کے پابند نہیں رہے اور آئندہ اقدامات کے تعین میں مکمل آزادی رکھتے ہیں۔واضح رہے کہ نیو اسٹارٹ معاہدہ 2010 میں طے پایا تھا، جس کے تحت امریکا اور روس کو جوہری وارہیڈز، بین البر اعظمی بیلسٹک میزائلوں اور لانچ سسٹمز کی تعداد محدود رکھنے کی پابندی عائد تھی۔ دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ عالمی امن و سلامتی کو یقینی بنانے اور جوہری ہتھیاروں کی دوڑ روکنے کے لیے جلد کسی نئے معاہدے پر اتفاق کیا جائے۔















































