ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

کابل میں حملہ، فتنہ الہندوستان کے مفتی نور ولی محسود کی ہلاکت کی اطلاعات

datetime 10  اکتوبر‬‮  2025 |

اسلا م آباد ( نیوز ڈیسک) افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ایک دھماکے اور فائرنگ کے واقعے کے دوران کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے سربراہ مفتی نور ولی محسود کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ابتدائی رپورٹوں کے مطابق، واقعہ کابل کے آٹھویں پولیس ڈسٹرکٹ میں پیش آیا، جہاں دو دھماکوں کے بعد فائرنگ کی آوازیں سنائی دیں۔ واقعے کے کچھ دیر بعد سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز بھی سامنے آئیں جن میں فضا میں طیاروں کی گرج سنی جا سکتی ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، حملے کا اصل ہدف ٹی ٹی پی کے سربراہ مفتی نور ولی محسود تھے۔ تاہم، ان کی ہلاکت یا زخمی ہونے کے بارے میں اطلاعات متضاد ہیں اور سرکاری طور پر کوئی تصدیق نہیں کی گئی۔ذرائع نے بتایا کہ حملہ میزائل حملے کے ذریعے کیا گیا، جس میں ایک سفید لینڈ کروزر کو نشانہ بنایا گیا۔

یہ وہی گاڑی بتائی جاتی ہے جو مفتی نور ولی محسود کے زیر استعمال تھی۔علاوہ ازیں، اطلاعات کے مطابق حملے میں قاری سیف اللہ محسود اور خالد محسود سمیت ان کے قریبی ساتھی بھی مارے گئے ہیں۔ دھماکے کے نتیجے میں گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی جبکہ سوار افراد کی شناخت کی تصدیق ابھی تک جاری ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…