ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت کیخلاف پاکستانی میزائلوں کی کامیابی نے امریکا کو نئے میزائل بنانے پر مجبور کردیا

datetime 23  اگست‬‮  2025 |

واشنگٹن (این این آئی)امریکی جریدے بلوم برگ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان فضائیہ نے چین کے تیار کردہ جدید میزائل پی ایل 15 کو استعمال کرتے ہوئے بھارتی جنگی طیاروں کو 100 میل سے زیادہ فاصلے سے کامیابی کے ساتھ نشانہ بنایا۔ اس کارروائی کے دوران پاکستانی طیاروں کو جوابی حملے کا کوئی خطرہ درپیش نہیں ہوا۔یہ کامیاب تجربہ نہ صرف خطے میں بلکہ عالمی سطح پر طویل فاصلے تک مار کرنے والے فضائی ہتھیاروں کی اہمیت اجاگر کرنے کا باعث بنا۔ اس کے بعد امریکی فوج کو اپنی فضائی برتری برقرار رکھنے کے لیے فوری طور پر نئی حکمتِ عملی اپنانے پر مجبور ہونا پڑا۔پینٹاگون کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ چینی فضائیہ نے 2023 میں پی ایل 17 کو عملی طور پر فعال کردیا تھا۔

یہ میزائل پی ایل 15 کا جدید ورژن ہے جو 400 کلو میٹر یعنی تقریباً 248 میل تک اپنے اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔پاکستان کے اس کامیاب آپریشن نے خطے میں فضائی طاقت کا توازن بدل دیا۔ اس کے جواب میں امریکی فضائیہ اور بحریہ نے لاک ہیڈ مارٹن کے خفیہ منصوبے ”ای آئی ایم 260” پر کام تیز کرنے کیلئے مالی سال 2026 میں ایک ارب ڈالر کی فنڈنگ کی درخواست کی ہے۔ ای آئی ایم 260 جسے ”جوائنٹ ایڈوانسڈ ٹیکٹیکل میزائل” بھی کہا جاتا ہے، خاص طور پر ایف 22 اور ایف 35 طیاروں کے اندرونی ہتھیاروں کے خانوں کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ مستقبل میں اسے ایف 16، ایف 15 اور ڈرون جنگی طیاروں کے ساتھ بھی مربوط کرنے کا منصوبہ ہے۔امریکی فضائیہ کے مطابق پاکستان کے پی ایل 15 کے کامیاب استعمال نے یہ ظاہر کر دیا ہے کہ امریکی فضائی برتری کو چیلنج کرنے والے نئے خطرات اب حقیقی صورت اختیار کرچکے ہیں۔

ان خطرات سے نمٹنے کیلیے ایک جدید اور زیادہ مؤثر میزائل کی تیاری ناگزیر ہے۔دستاویزات سے پتا چلتا ہے کہ امریکی فضائیہ نے میزائل کی تیاری کیلیے 368 ملین ڈالر اور اضافی 300 ملین ڈالر کی درخواست دی ہے، جبکہ بحریہ نے 301 ملین ڈالر مختص کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ نیا میزائل موجودہ ای آئی ایم 120 ایمرام (AMRAAM) کی جگہ لے گا جو 1993 سے استعمال میں ہے۔اب تک اس منصوبے پر 350 ملین ڈالر سے زائد خرچ ہوچکے ہیں، جبکہ لاک ہیڈ مارٹن کو اس کی ترقیاتی ذمے داری اگست 2017 میں دی گئی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…