منگل‬‮ ، 27 جنوری‬‮ 2026 

ایران، عراق اور شام جانے والے 40 ہزار پاکستانی زائرین کہاں غائب ہوئے؟

datetime 18  جولائی  2025 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) ایران، عراق اور شام کا سفر کرنے والے تقریباً 40 ہزار پاکستانی زائرین کے بارے میں سرکاری سطح پر کوئی واضح اور تصدیق شدہ معلومات دستیاب نہیں ہیں، جس پر مختلف ادارے تشویش میں مبتلا ہیں۔امیگریشن حکام کے مطابق، ان لاپتہ افراد میں سے بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو زیارت ویزے پر عراق پہنچنے کے بعد وہاں بھیک مانگنے، غیرقانونی ملازمتیں کرنے یا ترکی کے ذریعے یورپ جانے میں مصروف ہو گئے ہیں۔جولائی 2024 میں ایف آئی اے کوئٹہ کے ایڈیشنل ڈائریکٹر کی جانب سے تافتان سرحد پر تعینات افسر کو ایک مراسلہ ارسال کیا گیا تھا۔

اس میں اسلام آباد ہیڈکوارٹرز کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ بغداد میں 66 پاکستانی خواتین اور ان کے بچوں کو گداگری کے الزام میں حراست میں لیا گیا، جن کا تعلق سندھ اور جنوبی پنجاب کے مختلف اضلاع سے تھا، جیسے کہ شکارپور، راجن پور، رحیم یار خان، صادق آباد، ڈیرہ غازی خان اور کشمور۔خط میں یہ بھی ذکر تھا کہ یہ خواتین اپنے خاندان کے مردوں کے ساتھ عراق گئیں، لیکن مرد واپس آ گئے اور خواتین بچوں سمیت وہیں رک کر بھیک مانگنے لگیں۔ مزید یہ بھی بتایا گیا کہ کچھ افراد نے خطیر رقم ادا کر کے ایجنٹوں کے ذریعے زیارتی ویزے پر ایران اور پھر عراق کا غیر قانونی راستہ اختیار کیا۔ ان کا تعلق منڈی بہاؤالدین، گجرات، گوجرانوالہ، وزیرآباد، شیخوپورہ اور پارا چنار جیسے علاقوں سے تھا۔عراق میں پاکستانی سفارت خانے نے عراقی حکام سے ملاقات کے بعد یہ اطلاعات فراہم کیں کہ عراق میں غیرقانونی مقیم پاکستانیوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ اس پر عراقی حکام نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے تجویز دی کہ آئندہ حکومت پاکستان زائرین سے واپسی کی تحریری ضمانت لے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔پاکستانی سفیر کے مطابق بغداد، کربلا، نجف، بصرہ اور کردستان کے مختلف حصوں میں تقریباً 40 سے 50 ہزار پاکستانی موجود ہیں، جن میں صرف چند قانونی ملازمتوں میں ہیں، جبکہ باقی غیر قانونی طور پر وہاں رہائش پذیر ہیں۔

ایک اور تشویشناک انکشاف یہ بھی ہوا کہ بڑی تعداد میں خواتین اور بچے، جن میں نومولود سے لے کر 12 سال کے بچے شامل تھے، عراق میں بھیک مانگتے پائے گئے۔ ان کے پاس پیدائشی دستاویزات اور نادرا رجسٹریشن نہ ہونے کے سبب سفارت خانے کو ان کے لیے ایمرجنسی سفری دستاویزات جاری کرنے میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔عراق میں موجود 18 سے 25 سال کے نوجوانوں کی بڑی تعداد کا تعلق بھی پنجاب کے مختلف اضلاع سے ہے، جو غیر قانونی طور پر عراق پہنچے اور وہیں مقیم ہو گئے۔عراقی پارلیمنٹ کی نارکوٹکس کمیٹی کے چیئرمین کے ساتھ میٹنگ میں بتایا گیا کہ پاکستانی شہری ایران کے راستے عراق آتے ہوئے منشیات کی اسمگلنگ میں بھی ملوث پائے گئے ہیں۔ سفارت خانے کے مطابق، اب تک 21 پاکستانی شہری منشیات سے متعلق مقدمات میں سزا پا چکے ہیں۔مزید یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ایسے کئی افراد زائرین کا روپ دھار کر ایران کے راستے ترکی پہنچتے ہیں اور پھر وہاں سے انسانی اسمگلروں کے ذریعے یونان یا اٹلی جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاہم حالیہ کشتی حادثات کے بعد یورپی ممالک نے اس راستے پر سختی کر دی ہے، جس کے باعث ان افراد کی یورپ پہنچنے کی کوششوں میں کمی آئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



قم میں آدھا دن


ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…