ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

مودی نے مسلمانوں سے سر چھپانے کا حق بھی چھین لیا، صرف ایک ضلع میں 700سے زائد گھر مسمار

datetime 2  جولائی  2025 |

نئی دہلی (این این آئی)بھارتی ریاست آسام کے ضلع گوالپاڑہ میں مودی سرکار نے ظلم و بربریت کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ریاست آسام میں غیر قانونی تجاوزات کے خلاف آپریشن میں صرف مسلمانوں کی املاک کو مسمار کیا گیا۔مودی سرکار نے ریاست آسام کے صرف ایک ضلع گوالپاڑہ کے اس علاقے میں 700سے زائد گھر مسمار کیے جہاں مسلمان آباد ہیں۔مودی سرکار کے اس امتیازی سلوک کے باعث ہزاروں مسلمان اپنے بال بچوں اور مال مویشی کے ساتھ کھلے آسمان تلے رات گزارنے پر مجبور ہیں۔ شدید گرمی، حبس اور مون سون کی بارشوں نے بے گھر مسلمانوں کو دوہرے عذاب میں مبتلا کردیا، بچے اور مویشی بیمار پڑ گئے ہیں۔

ایک افسوسناک واقعے میں 60سالہ زیتون نشا شدید گرمی اور بیماری کے باعث انتقال کر گئیں، جو حکومتی بے حسی اور متاثرین کو بنیادی سہولیات فراہم نہ کیے جانے کا منہ بولتا ثبوت ہے۔اہل علاقہ نے کہا کہ یہ آبادی کئی دہائیوں سے یہی رہ رہی ہے، ہمارے پاس گھر کے کاغذات اور شہریت کے قانونی دستاویزات بھی ہیں لیکن اب اچانک کہا جانے لگا ہے کہ ہم لوگ بھارتی نہیں بلکہ بنگلادیشی ہیں۔علاقہ مکینوں نے میڈیا کو مزید بتایا کہ حکومتی حکام ہمیں گھروں سے جبری طور پر بیدخل کرکے زبردستی بنگلادیش بھیجنے کی کوشش کر رہے ہیں۔چار بچوں کی ماں متاثرہ خاتون فاطمہ بیگم نے بتایا کہ ایک دن میں ہمارا سب کچھ ختم ہوگیا ہمارا گھر، ہمارا سامان اور اب میرے بچے گرمی اور بارش میں سسک رہے ہیں۔ ہم صرف عزت اور تحفظ چاہتے ہیں۔ مقامی سکول ٹیچر عمران حسین نے کہا کہ یہ صرف املاک پر حملہ نہیں بلکہ ہماری شناخت پر حملہ ہے۔

ہم حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ہماری بات سنے، ورنہ مزید نقصان ہوگا۔مسلم رہنما عین الحق چودھری نے شدید الفاظ میں کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جن لوگوں کو بیدخل کیا جا رہا ہے ان کے نام ووٹر لسٹس میں موجود ہیں جبکہ حکومت انہیں باہر سے آیا ہوا قرار دے رہی ہے جبکہ یہ نسلا اور قانونا بھارتی شہری ہیں۔انہوں نے حکومت کی طرف سے کسی قسم کی ریلیف نہ دیے جانے پر خبردار کیا کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو بچوں اور بزرگوں کی حالت مزید خراب ہوسکتی ہے۔یہ واقعہ بھارت میں اقلیتوں، خصوصا مسلمانوں کے خلاف بڑھتے ہوئے امتیازی سلوک اور حکومتی رویے پر ایک اور تشویشناک مثال ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…