منگل‬‮ ، 27 جنوری‬‮ 2026 

شدید بھوک عالمی سطح پر انتہا کو پہنچ گئی؛ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں خطرناک انکشافات

datetime 17  مئی‬‮  2025 |

کراچی(این این آئی)عالمی برادری کیلیے لمح فکریہ بننے والی ایک تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دنیا بھر میں شدید بھوک کا مسئلہ خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے۔اقوام متحدہ کے تعاون سے تیار کی گئی اس رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس دنیا کے مختلف حصوں میں تقریبا 29 کروڑ 53 لاکھ افراد کو انتہائی بھوک کا سامنا کرنا پڑا، جو کہ اب تک کی بلند ترین سطح ہے۔یہ تعداد 2023 کے مقابلے میں بڑھ چکی ہے، جب 28 کروڑ 16 لاکھ افراد شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار تھے۔

رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ لگاتار چھٹا سال ہے جب ایسے متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ 65 میں سے 53 ممالک میں کی جانے والی تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان علاقوں کی کل آبادی کا تقریبا ایک چوتھائی حصہ شدید بھوک سے متاثر ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ قحط کے دہانے پر موجود افراد کی تعداد اب 19 لاکھ تک پہنچ گئی ہے، جو کہ گزشتہ برس کے مقابلے میں دگنا ہے۔ فوڈ سیکیورٹی مانیٹر نے خبردار کیا کہ غزہ میں اسرائیلی ناکہ بندی کے باعث دو ماہ سے زیادہ عرصے سے قحط کا حقیقی خطرہ منڈلا رہا ہے۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اس صورتِ حال کو تباہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ غزہ، سوڈان، یمن اور مالی جیسے خطے تنازعات اور دیگر بحرانوں کے باعث شدید بھوک کی زد میں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ لاکھوں خاندان فاقہ کشی کے دہانے پر ہیں، جبکہ دوسری جانب حیران کن طور پر دنیا بھر میں پیدا ہونے والی ایک تہائی خوراک ضائع کر دی جاتی ہے۔رپورٹ کے مطابق دنیا کے بیس ممالک اور خطے ایسے ہیں جہاں تنازعات اور تشدد شدید بھوک کی بنیادی وجوہات میں شامل ہیں۔ ان علاقوں میں تقریبا 14 کروڑ افراد متاثر ہوئے ہیں۔

اسی طرح 18 ممالک میں شدید موسمی حالات اور 15 ممالک میں معاشی بحران نے مل کر مزید 15 کروڑ 50 لاکھ انسانوں کو متاثر کیا۔رپورٹ اس امر کی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ افغانستان اور کینیا جیسے چند ممالک میں اگرچہ کچھ بہتری دیکھنے میں آئی ہے، مگر غزہ، میانمار اور سوڈان کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال نے عالمی تصویر کو مزید دھندلا کر دیا ہے۔سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ 2025 کیلیے مستقبل کا منظرنامہ بھی انتہائی مایوس کن قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بڑے عطیہ دہندگان کی جانب سے امداد میں کمی کی وجہ سے انسانی ہمدردی پر مبنی منصوبے شدید متاثر ہوں گے۔ گوتریس نے کہا، یہ صرف نظام کی ناکامی نہیں بلکہ انسانیت کی ناکامی ہے۔ 21ویں صدی میں بھوک کا وجود ناقابلِ دفاع ہے۔ ہم خالی پیٹوں کے سامنے خالی ہاتھ اور بند آنکھوں سے نہیں کھڑے ہو سکتے۔رپورٹ کے مطابق فنڈنگ میں ہونے والی اس اچانک کمی کا براہِ راست اثر افغانستان، کانگو، ایتھوپیا، ہیٹی، جنوبی سوڈان، سوڈان اور یمن جیسے ممالک میں جاری انسانی امدادی کارروائیوں پر پڑ رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



قم میں آدھا دن


ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…