اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

شدید بھوک عالمی سطح پر انتہا کو پہنچ گئی؛ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں خطرناک انکشافات

datetime 17  مئی‬‮  2025 |

کراچی(این این آئی)عالمی برادری کیلیے لمح فکریہ بننے والی ایک تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دنیا بھر میں شدید بھوک کا مسئلہ خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے۔اقوام متحدہ کے تعاون سے تیار کی گئی اس رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس دنیا کے مختلف حصوں میں تقریبا 29 کروڑ 53 لاکھ افراد کو انتہائی بھوک کا سامنا کرنا پڑا، جو کہ اب تک کی بلند ترین سطح ہے۔یہ تعداد 2023 کے مقابلے میں بڑھ چکی ہے، جب 28 کروڑ 16 لاکھ افراد شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار تھے۔

رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ لگاتار چھٹا سال ہے جب ایسے متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ 65 میں سے 53 ممالک میں کی جانے والی تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان علاقوں کی کل آبادی کا تقریبا ایک چوتھائی حصہ شدید بھوک سے متاثر ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ قحط کے دہانے پر موجود افراد کی تعداد اب 19 لاکھ تک پہنچ گئی ہے، جو کہ گزشتہ برس کے مقابلے میں دگنا ہے۔ فوڈ سیکیورٹی مانیٹر نے خبردار کیا کہ غزہ میں اسرائیلی ناکہ بندی کے باعث دو ماہ سے زیادہ عرصے سے قحط کا حقیقی خطرہ منڈلا رہا ہے۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اس صورتِ حال کو تباہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ غزہ، سوڈان، یمن اور مالی جیسے خطے تنازعات اور دیگر بحرانوں کے باعث شدید بھوک کی زد میں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ لاکھوں خاندان فاقہ کشی کے دہانے پر ہیں، جبکہ دوسری جانب حیران کن طور پر دنیا بھر میں پیدا ہونے والی ایک تہائی خوراک ضائع کر دی جاتی ہے۔رپورٹ کے مطابق دنیا کے بیس ممالک اور خطے ایسے ہیں جہاں تنازعات اور تشدد شدید بھوک کی بنیادی وجوہات میں شامل ہیں۔ ان علاقوں میں تقریبا 14 کروڑ افراد متاثر ہوئے ہیں۔

اسی طرح 18 ممالک میں شدید موسمی حالات اور 15 ممالک میں معاشی بحران نے مل کر مزید 15 کروڑ 50 لاکھ انسانوں کو متاثر کیا۔رپورٹ اس امر کی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ افغانستان اور کینیا جیسے چند ممالک میں اگرچہ کچھ بہتری دیکھنے میں آئی ہے، مگر غزہ، میانمار اور سوڈان کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال نے عالمی تصویر کو مزید دھندلا کر دیا ہے۔سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ 2025 کیلیے مستقبل کا منظرنامہ بھی انتہائی مایوس کن قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بڑے عطیہ دہندگان کی جانب سے امداد میں کمی کی وجہ سے انسانی ہمدردی پر مبنی منصوبے شدید متاثر ہوں گے۔ گوتریس نے کہا، یہ صرف نظام کی ناکامی نہیں بلکہ انسانیت کی ناکامی ہے۔ 21ویں صدی میں بھوک کا وجود ناقابلِ دفاع ہے۔ ہم خالی پیٹوں کے سامنے خالی ہاتھ اور بند آنکھوں سے نہیں کھڑے ہو سکتے۔رپورٹ کے مطابق فنڈنگ میں ہونے والی اس اچانک کمی کا براہِ راست اثر افغانستان، کانگو، ایتھوپیا، ہیٹی، جنوبی سوڈان، سوڈان اور یمن جیسے ممالک میں جاری انسانی امدادی کارروائیوں پر پڑ رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…