بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

سڑک پر دودھ اور کتابیں بیچنے والا بھارتی یومیہ 1 ارب کمانے لگا

datetime 1  فروری‬‮  2025 |

ممبئی (این این آئی)کاروبار کی مسابقتی دنیا میں بھارتی شہری رضوان ساجن کی متاثر کن کامیابی کی داستان ایک نمایاں مقام رکھتی ہے۔ممبئی کے ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہونے والے رضوان سجن کو ابتدائی طور پر مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اپنی کفالت کے لیے انہوں نے چھوٹی موٹی نوکریاں کیں یہاں تک سڑکوں پر کتابیں اور دودھ بھی بیچا۔

تاہم زندگی نے ایک سخت موڑ لیا جب انہوں نے اپنے والد کو کھو دیا اور انہیں بیرون ملک بہتر مواقع تلاش کرنے پر مجبور کیا۔عرب ٹی وی کے مطابق 1981 میں انہوں نے کویت جانے کا فیصلہ کیا جہاں انہوں نے بطور ٹرینی سیلز مین کام کرنا شروع کیا۔ یہ ملازمت کامیابی کی طرف پہلے قدم کے طور پر ثابت ہوئی جس سے انہیں قیمتی کاروباری بصیرت اور سیلز کا تجربہ ملا۔

ان کے کیریئر کا ایک اہم لمحہ 1993 میں آیا جب انہوں نے ایک جرات مندانہ قدم اٹھاتے ہوئے Danube گروپ کی بنیاد رکھی، جو کہ ابتدائی طور پر تعمیراتی مواد سے متعلق کام کرتی تھی۔ لگن اور مقصد کے ساتھ ساتھ کمپنی ایک بڑے ادارے میں تبدیل ہوئی جس نے گھریلو سجاوٹ اور رئیل اسٹیٹ کا کام بھی کرنا شروع کردیا۔آج ڈینوبے گروپ سعودی عرب، قطر، بحرین، عمان اور بھارت سمیت متعدد ممالک میں کام کرتی ہے جو اسے سرکردہ کمپنیوں میں سے ایک بناتی ہے۔ ڈینوبے روزانہ ایک ارب پاکستانی روپے سے زائد کماتی ہے اور اس کے کل اثاثوں کی مالیت 2.5 بلین ڈالرز ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…