منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

واشنگٹن: مسافر طیارہ فوجی ہیلی کاپٹر سے ٹکرا کر دریا میں گرگیا، 30 لاشیں نکال لی گئیں، مزید ہلاکتوں کا خدشہ

datetime 30  جنوری‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)واشنگٹن کے قریب ایک افسوسناک فضائی حادثہ پیش آیا جس میں ایک مسافر طیارہ اور فوجی ہیلی کاپٹر آپس میں ٹکرا گئے، جس کے نتیجے میں 30 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔تفصیلات کے مطابق، امریکی ایئرلائن کی پرواز وکیٹا، کنساس سے واشنگٹن پہنچی تھی کہ رن وے کے قریب دریائے پوٹومیک کے اوپر یہ حادثہ رونما ہوا۔ فلائٹ ریڈار کے ڈیٹا کے مطابق، مقامی وقت کے مطابق شام 8 بج کر 48 منٹ پر طیارے کو حادثہ پیش آیا، جب کہ اس وقت اس کی رفتار 166 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی۔

رپورٹس کے مطابق، بمبارڈیئر CRJ700 طیارے میں 78 مسافروں کے بیٹھنے کی گنجائش تھی۔ تاہم، حادثے کے وقت اس میں 64 افراد سوار تھے۔ فوجی ہیلی کاپٹر سے ٹکرانے کے بعد مسافر طیارہ دریا میں جا گرا، جس کے بعد امدادی ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے غوطہ خوروں کو تعینات کر دیا۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ حادثے کے بعد سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا اور اب تک 30 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں، جب کہ مزید افراد کی تلاش جاری ہے۔ فوجی حکام نے تصدیق کی ہے کہ جس بلیک ہاک ہیلی کاپٹر سے مسافر طیارہ ٹکرایا، اس میں تین فوجی اہلکار سوار تھے، اور یہ ایک تربیتی پرواز پر تھا۔

حادثے کے بعد ریگن نیشنل ایئرپورٹ پر تمام پروازیں معطل کر دی گئیں، جب کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی اس واقعے کی اطلاع دے دی گئی ہے۔ واشنگٹن ڈی سی کے فائر چیف کا کہنا ہے کہ ریسکیو آپریشن میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں کیونکہ موسم خراب اور سردی شدید ہے، جس کی وجہ سے امدادی کام میں رکاوٹ ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق، اس واقعے میں زندہ بچ جانے والوں کے بارے میں فی الحال کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔دوسری جانب، واشنگٹن ڈی سی کے میئر نے اعلان کیا ہے کہ امدادی کارروائیوں میں سہولت کے لیے دریائے پوٹومیک پر چلنے والی کشتی سروس کو بھی عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…