اتوار‬‮ ، 07 جون‬‮ 2026 

ٹرمپ نے بغیر نوٹس دیئے اہم ایجنسیوں کے 17 انسپکٹرز جنرلز کو برطرف کردیا

datetime 25  جنوری‬‮  2025 |

واشنگٹن (این این آئی)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایک درجن سے زائد اہم سرکاری اداروں کے آزادنہ حیثیت میں کام کرنے والے انسپکٹر جنرل کو برطرف کر دیا۔امریکی جریدے نے اس معاملے سے واقف افراد کا نام ظاہر کیے بغیر حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جن ایجنسیوں کے حکام کو برطرف کیا گیا ان میں دفاع، ریاست، نقل و حمل، سابق فوجیوں کے امور، ہاسنگ اور اربن ڈیولپمنٹ، داخلہ اور توانائی کے محکمے شامل ہیں۔اخبار نے کہا کہ برطرفی کے احکامات نے 17 ایجنسیوں کو متاثر کیا لیکن محکمہ انصاف کے انسپکٹر جنرل مائیکل ہورووٹز برطرفی سے محفوظ رہے۔

اخبار نے کہا کہ برطرفی کے احکامات بظاہر ان وفاقی قانون کی خلاف ورزی لگتے ہیں جن کے تحت کانگریس کو انسپکٹر جنرل کو برطرف کرنے کے ادارے سے متعلق 30 دن کا نوٹس موصول کرنا ہوگا۔وائٹ ہاس نے فوری طور پر رپورٹس پر رد عمل دینے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔انسپکٹر جنرل ایک آزاد عہدہ ہے جو ضیاع، فراڈ اور اختیارات کے غلط استعال سے متعلق آڈٹ، تحقیقات اور الزامات کے حوالے سے کام کرتا ہے، انہیں صدر یا متعلقہ ایجنسی کا سربراہ ہٹایا جا سکتا ہے اور اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ انہیں کس نے نامزد یا مقرر کیا۔برطرف کیے جانے والوں میں سے زیادہ تر کو ٹرمپ کے 2017-2021 کے پہلے دور میں مقرر کیا گیا تھا، واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ متاثرہ افراد کو وائٹ ہاس عملے کے ڈائریکٹر کی جانب سے ای میلز کے ذریعے فیصلے سے مطلع کیا گیا تھا کہ انہیں فوری طور پر برطرف کر دیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…