بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

منگیتر کو خوش کرنے کیلئے پنجرے میں جانیوالا شخص شیر وں کی خوراک بن گیا

datetime 11  جنوری‬‮  2025 |

تاشقند(این این آئی)ازبکستان کے ایک چڑیا گھر میں منگیتر کو خوش کرنے کی غرض سے شیر کے پنجرے میں جانے والا شخص اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ ماہ 44سالہ ایف ایرسکولو ازبکستان کے ایک چڑیا گھر میں بطور زوکیپر (zookeeper)ڈیوٹی کررہا تھا جس دوران اس نے منگیتر کو متاثر کرنے کیلئے 3شیروں والے پنجرے میں جاکر ویڈیو ریکارڈ کرنے کا فیصلہ کیا لیکن اسی دوران ایرسکولو شیروں کی خوراک بن گیا اور اس کی چیخیں اور سسکیاں آخری آواز بن کر اس کے موبائل میں ریکارڈ ہوگئیں۔

مرنے والے شخص کے فون سے حاصل ہونے والے کلپ میں ایف ایرسکولو کو رات کے وقت شیروں کے پنجرے میں جاکر انہیں کھولتے اور پھر منگیتر کو مخاطب کرکے شیروں سے باتیں کرتے دیکھا گیا لیکن ایرسکولو کو شیر کو کھولنا بھاری پڑگیا، بھوکے شیروں نے زوکیپر پر حملہ کرکے اسے اپنا شکار بنالیا۔ایف ایرسکولو کی باقیات کو 4گھنٹے بعد شیروں کے پنجرے سے نکالاگیا جس دوران چڑیا گھر کی انتظامیہ نے تصدیق کی کہ تینوں شیر زوکیپر کو نشانہ بنانے کے بعد چڑیا گھر سے فرار ہوگئے جس میں ایک کو تلاش کیے جانے کے بعد گولی ماردی گئی۔ پولیس کے مطابق زوکیپر شیروں کے پنجرے کا ایک ماہر تجربہ کار رکھوالی تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…