ہفتہ‬‮ ، 03 جنوری‬‮ 2026 

بھارت خواتین کیلیے انتہائی غیر محفوظ، ہر 16 منٹ میں ایک عورت کے ساتھ زیادتی

datetime 9  جنوری‬‮  2025 |

نئی دہلی(این این آئی)بھارت مقامی اور سیاح خواتین کے لیے غیر محفوظ ترین ملک بن گیا۔مودی سرکار میں بھارت میں خواتین سے زیادتی کے واقعات میں غیر معمولی اضافہ ہو گیا ہے۔ بھارت میں 2 مارچ 2024 کو 28 سالہ ہسپانوی سیاح خاتون کو ریاست جھاڑ کھنڈ میں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ واقعہ عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا رہا اور بھارت میں خواتین کے غیر محفوظ ہونے پر سوال اٹھائے گئے۔بھارتی قومی جرائم ریکارڈ بیورو کے مطابق 2022 میں سیاحوں سمیت غیر ملکیوں کے خلاف جنسی زیادتی کے 25 کیس رپورٹ ہوئے۔ مودی کے بھارت میں ہر 16 منٹ میں ایک عورت ریپ جیسے گھناونے جرم کا شکار ہوتی ہے لیکن یہ جرائم پولیس کے ریکارڈ میں نہیں آتے۔

بھارتی مسلح افواج میں خواتین کے خلاف جنسی تشدد اور ریپ کے متعدد واقعات سامنے آئے۔ ستمبر 2024 میں سری نگر ایئر فورس اسٹیشن پر ونگ کمانڈر کے خلاف خاتون افسر نے زیادتی کا الزام عائد کیا۔ بھارتی ائیرفورس کی خاتون افسر کا کہنا تھا کہ حکام نے اس کی شکایت کو مناسب طریقے سے نہیں نمٹایا جس کے بعد مجبورا پولیس سے رجوع کرنا پڑا۔ کانپور میں آرمی کرنل نے دوست کی بیوی سے زیادتی کی اور روپوش ہوگیا۔ بھارتی فوج میں ہراسانی اور جنسی تشدد کے متعدد کیسزسوشل میڈیا کے ذریعے عوامی توجہ کا مرکز بنتے ہیں کیونکہ خواتین افسران پر بڑھتی ہوئی نگرانی رسمی رپورٹنگ کو روک دیتی ہے۔مقبوضہ کشمیر میں جنسی استحصال کو خواتین کے خلاف جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔

بھارتی سیکورٹی فورسزکی خواتین سے جنسی زیادتیوں کی متعدد رپورٹس موجود ہیں۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جنوری 1989 سے اب تک بھارتی افواج کے ہاتھوں 15000 سے زائد اجتماعی عصمت دری اور جنسی تشدد کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ ان واقعات میں 1991 کا بدنام زمانہ کنن پوشپورہ واقعہ بھی شامل ہے جس میں بھارتی فورسز کے اہلکاروں نے 150 خواتین کی عصمت دری کی۔یہ تمام شواہد بھارت میں نہ صرف بڑھتے ہوئے ریپ کلچر کے فروغ کی طرف نشاندہی کرتے ہیں بلکہ بھارت میں اخلاقی پستی کو بھی عیاں کرتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر


میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…

نوٹیفکیشن میں تاخیر کی پانچ وجوہات

میں نریندر مودی کو پاکستان کا سب سے بڑا محسن سمجھتا…