منگل‬‮ ، 28 جولائی‬‮ 2026 

بھارت خواتین کیلیے انتہائی غیر محفوظ، ہر 16 منٹ میں ایک عورت کے ساتھ زیادتی

datetime 9  جنوری‬‮  2025 |

نئی دہلی(این این آئی)بھارت مقامی اور سیاح خواتین کے لیے غیر محفوظ ترین ملک بن گیا۔مودی سرکار میں بھارت میں خواتین سے زیادتی کے واقعات میں غیر معمولی اضافہ ہو گیا ہے۔ بھارت میں 2 مارچ 2024 کو 28 سالہ ہسپانوی سیاح خاتون کو ریاست جھاڑ کھنڈ میں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ واقعہ عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا رہا اور بھارت میں خواتین کے غیر محفوظ ہونے پر سوال اٹھائے گئے۔بھارتی قومی جرائم ریکارڈ بیورو کے مطابق 2022 میں سیاحوں سمیت غیر ملکیوں کے خلاف جنسی زیادتی کے 25 کیس رپورٹ ہوئے۔ مودی کے بھارت میں ہر 16 منٹ میں ایک عورت ریپ جیسے گھناونے جرم کا شکار ہوتی ہے لیکن یہ جرائم پولیس کے ریکارڈ میں نہیں آتے۔

بھارتی مسلح افواج میں خواتین کے خلاف جنسی تشدد اور ریپ کے متعدد واقعات سامنے آئے۔ ستمبر 2024 میں سری نگر ایئر فورس اسٹیشن پر ونگ کمانڈر کے خلاف خاتون افسر نے زیادتی کا الزام عائد کیا۔ بھارتی ائیرفورس کی خاتون افسر کا کہنا تھا کہ حکام نے اس کی شکایت کو مناسب طریقے سے نہیں نمٹایا جس کے بعد مجبورا پولیس سے رجوع کرنا پڑا۔ کانپور میں آرمی کرنل نے دوست کی بیوی سے زیادتی کی اور روپوش ہوگیا۔ بھارتی فوج میں ہراسانی اور جنسی تشدد کے متعدد کیسزسوشل میڈیا کے ذریعے عوامی توجہ کا مرکز بنتے ہیں کیونکہ خواتین افسران پر بڑھتی ہوئی نگرانی رسمی رپورٹنگ کو روک دیتی ہے۔مقبوضہ کشمیر میں جنسی استحصال کو خواتین کے خلاف جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔

بھارتی سیکورٹی فورسزکی خواتین سے جنسی زیادتیوں کی متعدد رپورٹس موجود ہیں۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جنوری 1989 سے اب تک بھارتی افواج کے ہاتھوں 15000 سے زائد اجتماعی عصمت دری اور جنسی تشدد کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ ان واقعات میں 1991 کا بدنام زمانہ کنن پوشپورہ واقعہ بھی شامل ہے جس میں بھارتی فورسز کے اہلکاروں نے 150 خواتین کی عصمت دری کی۔یہ تمام شواہد بھارت میں نہ صرف بڑھتے ہوئے ریپ کلچر کے فروغ کی طرف نشاندہی کرتے ہیں بلکہ بھارت میں اخلاقی پستی کو بھی عیاں کرتے ہیں۔



کالم



ہمارا امیرالعظیم


امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…