منگل‬‮ ، 08 ستمبر‬‮ 2026 

اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت اور منتقلی روکی جائے ، 50 ممالک کا اقوام متحدہ سے مطالبہ

datetime 5  ‬‮نومبر‬‮  2024 |

نیویارک(این این آئی)اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی میں 50 سے زیادہ ممالک اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت اور منتقلی روکنے کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان ممالک کا کہنا ہے کہ اس بات کے شبہے کی مناسب وجوہات موجود ہیں کہ یہ عسکری ساز و سامان غزہ اور مغربی جنارے میں استعمال کیا جائے گا جو تنازع کا شکار ہیں۔یہ بات اقوام متحدہ کے زیر انتظام دونوں اداروں اور تنظیم کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کو پیر کے روز بھیجے گئے ایک خط میں کہی گئی۔

خط میں مذکورہ ممالک نے اسرائیل پر الزام عائد کیا کہ وہ غزہ سمیت فلسطینی اراضی، لبنان اور بقیہ مشرق وسطیٰ میں بین الاقوامی قوانین کی مسلسل خلاف ورزیاں کر رہا ہے۔خط میں لکھا گیا ہے کہ قابض طاقت اسرائیل کی جانب سے ایک سال سے زیادہ عرصے سے بین الاقوامی قوانین کی مسلسل خلاف ورزیوں کے سبب شہریوں کی ہلاکتوں کی حیران کن تعداد جس میں اکثریت بچوں اور عورتوں کی ہے، یہ نا قابل برداشت اور نا قابل قبول ہے … ہمیں فوری طور پر ایسے اقدامات کی ضرورت ہے جن سے شدید انسانی المیے اور علاقائی عدم استحکام کو روکا جا سکے جو خطے میں ایک وسیع جنگ چھیڑنے کا خطرہ بن سکتا ہے۔

خط میں سلامتی کونسل پر زور دیا گیا ہے کہ اس المیے سے گریز کے لیے فوری فائر بندی کا اعلان کیا جائے اور شہریوں کے تحفظ کے لیے سابقہ قرار دادوں پر عمل درآمد کے اقدامات کیے جائیں۔ ساتھ ہی اسرائیل کو ہتھیاروں کی منتقلی روکنے کا واضح مطالبہ جاری کیا جائے۔ادھر اقوام متحدہ میں اسرائیلی سفیر ڈینی دانون نے اس خط میں ترکی کے کردار پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایسی ریاست سے کیا توقع کر سکتے ہیں جو شر پسندی سے مغلوب ہو کر شر کے محور کی حمایت سے تنازعات بھڑکانے کی کوشش میں مصروف ہو؟یاد رہے کہ شر کا محور کی اصطلاح پہلی مرتبہ سابق امریکی صدر جارج بش نے آران، شمالی کوریا اور عراق کی طرف اشارے کے لیے استعمال کی تھی۔ڈینی دانون نے ایک بیان میں واضح کیا کہ ہم کسی بھی سیاسی یا فوجی حملے کے مقابل اسرائیلی ریاست کے مفادات کی خاطر مزاحمت جاری رکھیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…