منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت اور منتقلی روکی جائے ، 50 ممالک کا اقوام متحدہ سے مطالبہ

datetime 5  ‬‮نومبر‬‮  2024 |

نیویارک(این این آئی)اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی میں 50 سے زیادہ ممالک اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت اور منتقلی روکنے کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان ممالک کا کہنا ہے کہ اس بات کے شبہے کی مناسب وجوہات موجود ہیں کہ یہ عسکری ساز و سامان غزہ اور مغربی جنارے میں استعمال کیا جائے گا جو تنازع کا شکار ہیں۔یہ بات اقوام متحدہ کے زیر انتظام دونوں اداروں اور تنظیم کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کو پیر کے روز بھیجے گئے ایک خط میں کہی گئی۔

خط میں مذکورہ ممالک نے اسرائیل پر الزام عائد کیا کہ وہ غزہ سمیت فلسطینی اراضی، لبنان اور بقیہ مشرق وسطیٰ میں بین الاقوامی قوانین کی مسلسل خلاف ورزیاں کر رہا ہے۔خط میں لکھا گیا ہے کہ قابض طاقت اسرائیل کی جانب سے ایک سال سے زیادہ عرصے سے بین الاقوامی قوانین کی مسلسل خلاف ورزیوں کے سبب شہریوں کی ہلاکتوں کی حیران کن تعداد جس میں اکثریت بچوں اور عورتوں کی ہے، یہ نا قابل برداشت اور نا قابل قبول ہے … ہمیں فوری طور پر ایسے اقدامات کی ضرورت ہے جن سے شدید انسانی المیے اور علاقائی عدم استحکام کو روکا جا سکے جو خطے میں ایک وسیع جنگ چھیڑنے کا خطرہ بن سکتا ہے۔

خط میں سلامتی کونسل پر زور دیا گیا ہے کہ اس المیے سے گریز کے لیے فوری فائر بندی کا اعلان کیا جائے اور شہریوں کے تحفظ کے لیے سابقہ قرار دادوں پر عمل درآمد کے اقدامات کیے جائیں۔ ساتھ ہی اسرائیل کو ہتھیاروں کی منتقلی روکنے کا واضح مطالبہ جاری کیا جائے۔ادھر اقوام متحدہ میں اسرائیلی سفیر ڈینی دانون نے اس خط میں ترکی کے کردار پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایسی ریاست سے کیا توقع کر سکتے ہیں جو شر پسندی سے مغلوب ہو کر شر کے محور کی حمایت سے تنازعات بھڑکانے کی کوشش میں مصروف ہو؟یاد رہے کہ شر کا محور کی اصطلاح پہلی مرتبہ سابق امریکی صدر جارج بش نے آران، شمالی کوریا اور عراق کی طرف اشارے کے لیے استعمال کی تھی۔ڈینی دانون نے ایک بیان میں واضح کیا کہ ہم کسی بھی سیاسی یا فوجی حملے کے مقابل اسرائیلی ریاست کے مفادات کی خاطر مزاحمت جاری رکھیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…