جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

عمران خان نے اسرائیلی حکام کو پیغامات بھیجے ہیں، اسرائیلی اخبار کا دعوی

datetime 7  ستمبر‬‮  2024 |

تل ابیب(این این آئی) اسرائیلی اخبار میں شائع مضمون میں عمران خان کو پاکستان اسرائیل تعلقات استوار کرنے کیلیے موزوں ترین شخصیت قرار دے دیا گیا۔ٹائمز آف اسرائیل میں شائع بلاگ برسلز سے تعلق رکھنے والی بین الاقوامی تعلقات کی خاتون محقق عینور بشیروفا نے لکھا ہے۔

اپنے مضمون میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کا اسرائیل سے متعلق تاریخی موقف تو سب کو معلوم ہے کہ فلسطینی کاز کا بہت بڑا حمایتی ہے، اور اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بات کرنا پاکستان کے شناخت سے متصادم ہے۔ پاکستان میں فلسطین کی محبت کوئی سیاسی معاملہ نہیں بلکہ پاکستانی کے رگ و پے میں موجود ہے جس کی عکاسی پاکستانی سرکاری پالیسیز سے عیاں ہے۔مضمون میں کہا گیا کہ عمران خان نے بھی ہمیشہ فلسطین کے حق میں آواز اٹھائی۔ غزہ میں اسرائیلی مظالم کی مذمت اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کی مخالفت کی۔تاہم عمران خان نے اپنی حکومت میں خارجہ تعلقات کے حوالے سے منطقی پالیسی اختیار کی اور عوامی بیانات اور پس پردہ سفارتکاری کے درمیان توازن برقرار رکھا۔

انہوں نے نہ صرف روایتی اتحادیوں سعودی عرب و چین کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کرنے کی کوشش کی بلکہ ساتھ ہی ملکی مفاد میں مخالفین کے ساتھ بھی رابطے قائم کیے۔ان کے اس انداز سے پتہ چلتا ہے کہ عمران خان اسرائیل سے متعلق پاکستان کے موقف پر نظرثانی لینے کے لیے اپنے عوامی بیانات سے کہیں زیادہ کھلے ہیں۔بانی پی ٹی آئی کی گولڈ اسمتھ فیملی سے رشتہ داری ایک حقیقت ہے اور گولڈ اسمتھ خاندان سے یہ تعلق بانی پی ٹی آئی کا اسرائیل سے متعلق موقف بدلنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔بلاگ میں کہا گیا کہ زیک گولڈ اسمتھ کا برطانیہ میں اسرائیل نواز لابیز سے تعلق ہے، عمران خان اسرائیل کے بارے میں پاکستان کے موقف پر نظرثانی کے لیے زیادہ کھلے ہو سکتے ہیں۔

مضمون نگار نے کہا کہ ایسی اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ عمران خان نے گولڈ اسمتھ فیملی کے ذریعے اسرائیلی حکام کو پیغامات بھیجے، اور پاکستان اسرائیل کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے پر غور کرنے اور پاکستان میں مذہبی موقف کو اعتدال پر لانے کے لیے اپنی رضامندی کا اشارہ دیا۔اگر یہ رپورٹس درست ہیں، تو وہ اسرائیل کے بارے میں عمران خان کے نقطہ نظر میں لچک کی عکاسی کرتی ہیں جو روایتی پاکستانی موقف سے مختلف ہوگا۔مضمون میں مزید گیا کہ اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کو ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے کہ عمران خان دوبارہ پاکستانی سیاست میں حصہ لینے کے لیے آزاد ہوں اور اعتدال پسندی کا راستہ اختیار کرنے کی آواز بنیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…