منگل‬‮ ، 28 جولائی‬‮ 2026 

عمران خان نے اسرائیلی حکام کو پیغامات بھیجے ہیں، اسرائیلی اخبار کا دعوی

datetime 7  ستمبر‬‮  2024 |

تل ابیب(این این آئی) اسرائیلی اخبار میں شائع مضمون میں عمران خان کو پاکستان اسرائیل تعلقات استوار کرنے کیلیے موزوں ترین شخصیت قرار دے دیا گیا۔ٹائمز آف اسرائیل میں شائع بلاگ برسلز سے تعلق رکھنے والی بین الاقوامی تعلقات کی خاتون محقق عینور بشیروفا نے لکھا ہے۔

اپنے مضمون میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کا اسرائیل سے متعلق تاریخی موقف تو سب کو معلوم ہے کہ فلسطینی کاز کا بہت بڑا حمایتی ہے، اور اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بات کرنا پاکستان کے شناخت سے متصادم ہے۔ پاکستان میں فلسطین کی محبت کوئی سیاسی معاملہ نہیں بلکہ پاکستانی کے رگ و پے میں موجود ہے جس کی عکاسی پاکستانی سرکاری پالیسیز سے عیاں ہے۔مضمون میں کہا گیا کہ عمران خان نے بھی ہمیشہ فلسطین کے حق میں آواز اٹھائی۔ غزہ میں اسرائیلی مظالم کی مذمت اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کی مخالفت کی۔تاہم عمران خان نے اپنی حکومت میں خارجہ تعلقات کے حوالے سے منطقی پالیسی اختیار کی اور عوامی بیانات اور پس پردہ سفارتکاری کے درمیان توازن برقرار رکھا۔

انہوں نے نہ صرف روایتی اتحادیوں سعودی عرب و چین کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کرنے کی کوشش کی بلکہ ساتھ ہی ملکی مفاد میں مخالفین کے ساتھ بھی رابطے قائم کیے۔ان کے اس انداز سے پتہ چلتا ہے کہ عمران خان اسرائیل سے متعلق پاکستان کے موقف پر نظرثانی لینے کے لیے اپنے عوامی بیانات سے کہیں زیادہ کھلے ہیں۔بانی پی ٹی آئی کی گولڈ اسمتھ فیملی سے رشتہ داری ایک حقیقت ہے اور گولڈ اسمتھ خاندان سے یہ تعلق بانی پی ٹی آئی کا اسرائیل سے متعلق موقف بدلنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔بلاگ میں کہا گیا کہ زیک گولڈ اسمتھ کا برطانیہ میں اسرائیل نواز لابیز سے تعلق ہے، عمران خان اسرائیل کے بارے میں پاکستان کے موقف پر نظرثانی کے لیے زیادہ کھلے ہو سکتے ہیں۔

مضمون نگار نے کہا کہ ایسی اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ عمران خان نے گولڈ اسمتھ فیملی کے ذریعے اسرائیلی حکام کو پیغامات بھیجے، اور پاکستان اسرائیل کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے پر غور کرنے اور پاکستان میں مذہبی موقف کو اعتدال پر لانے کے لیے اپنی رضامندی کا اشارہ دیا۔اگر یہ رپورٹس درست ہیں، تو وہ اسرائیل کے بارے میں عمران خان کے نقطہ نظر میں لچک کی عکاسی کرتی ہیں جو روایتی پاکستانی موقف سے مختلف ہوگا۔مضمون میں مزید گیا کہ اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کو ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے کہ عمران خان دوبارہ پاکستانی سیاست میں حصہ لینے کے لیے آزاد ہوں اور اعتدال پسندی کا راستہ اختیار کرنے کی آواز بنیں۔



کالم



ہمارا امیرالعظیم


امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…