بدھ‬‮ ، 27 مئی‬‮‬‮ 2026 

بنگلہ دیشی تاجر برادری کا شیخ حسینہ سے اظہار لاتعلقی، مجبورا حمایت کرتے رہے

datetime 8  اگست‬‮  2024 |

ڈھاکہ(این این آئی)شیخ حسینہ کا دھڑن تختہ کے بعد بنگلہ دیش کی تاجر براردی کا ردعمل بھی سامنے آگیا۔ میڈیارپورٹس کے مطابق انٹرنیشنل چیمبر آف کامرس بنگلہ دیش(آئی سی سی بی)کے صدر محبوب الرحمان نے انکشاف کیا کہ ملک کے تاجر دبا میں رہنے کی وجہ سے طویل عرصے سے شیخ حسینہ حکومت کی حمایت کرنے پر مجبور تھے اور اگر ان کے پاس کوئی دوسرا راستہ ہوتا تو شاید وہ دبا کو نظر انداز کر سکتے تھے۔

ڈھاکہ میں کے ایک ہوٹل میں آئی سی سی بی نے تمام کاروباری تنظیموں کی جانب سے یہ پریس کانفرنس ملک کی موجودہ صورتحال پر بات کرنے کے لیے منعقد کی۔تاجر رہنمائوں نے کہا کہ امن و امان کی موجودہ صورتحال کو جلد قابو میں لانے اور کاروباری ماحول کو معمول پر لانے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ وہ پروفیسر محمد یونس کی قیادت میں نئی عبوری حکومت کی حمایت کریں گے۔

پریس کانفرنس میں آئی سی سی بی کے صدر نے تاجروں کی جانب سے صحافیوں کے مختلف سوالات کے جوابات دیئے۔ ایک صحافی نے سوال کیا کہ 16 سال تک شیخ حسینہ کی حکومت کو تاجروں کی مکمل حمایت حاصل رہی، اب آپ کاروباری طبقہ کہہ رہا ہے کہ ملک کے طلبہ نے بہت اچھا کام کیا ہے اور آپ پروفیسر محمد یونس کی قیادت میں نئی حکومت کا ساتھ دیں گے، کیا آپ کو یہ باتیں کہنے کا اخلاقی جواز ہے؟سوال کے جواب میں آئی سی سی بی کے صدر محبوب الرحمن نے کہا گزشتہ سال بنگا بندھو انٹرنیشنل کانفرنس سینٹر (بی آئی سی سی) میں ایک بزنس کانفرنس منعقد ہوئی تھی اس میں کہا گیا کہ بار بار شیخ حسینہ کی حکومت کی ضرورت ہے اور اس طرح شیخ حسینہ کی حکومت آئی، اب اگر آپ کو حکومت کے سربراہ سے ملاقات کی دعوت دی گئی ہے، اور آپ گھر بیٹھے ہیں۔

ہمارے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔محبوب الرحمن نے کہاکہ جب ہمیں مدعو کیا گیا تو ہم اسے ٹھکرا نہیں سکے، مجھے جانا ہے کوئی بھی تاجر کسی بھی ٹیم کو سپورٹ کر سکتا ہے، اس کو غلط سمجھنے کی کوئی وجہ نہیں ہے، ہم ملک کی معیشت کو آگے لے جانا چاہتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…