بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

ارب پتی بھارتی جوڑے نے تمام دولت عطیہ کرکے رہبانیت اختیار کرلی

datetime 16  اپریل‬‮  2024 |

سورت(این این آئی) بھارتی ریاست گجرات سے تعلق رکھنے والے ارب پتی بزنس مین اور اس کی بیوی نے ناقابل یقین قدم اٹھاتے ہوئے اپنی تمام دولت عطیہ کرکے رہبانیت اختیار کرلی۔فی زمانہ ہر انسان اپنی اور اپنے اہل خانہ کے بہتر معیار زندگی اور روشن مستقبل کے لیے پیسہ کمانے میں لگا ہوا ہے، ایسے میں کسی ارب پتی کاروباری کا اپنی تمام دولت اور جائیداد عطیہ کرکے دنیا سے کنارہ کش ہو جانا ناقابل یقین بات معلوم ہوتی ہے مگر بھویش بھنڈاری اور ان کی اہلیہ نے یہ قدم اٹھاکر بہت سوں کو حیران کر دیا ہے۔

جین مت کے پیروکاراس جوڑے نے فروری میں اپنی تمام دولت، جس کی مالیت دو ارب روپے تھی، عطیہ کردی تھی اور ماہ رواں کے آخر میں وہ باضابطہ طور پر ایک تقریب میں اپنی پچھلی زندگی چھوڑ کر تارک الدنیا ہوجائیں گے۔بھویش بھنڈاری کا تعلق گجرات کے شہر ہمت نگر سے ہے اور وہ کنسٹرکش کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ارب پتی کاروباری شخص اور ان کی اہلیہ کی زندگی میں اس انقلابی تبدیلی کا سبب ان کے نوجوان بیٹے اور بیٹی بنے ہیں۔ دو سال قبل اس جوڑے کی انیس سالہ بیٹی اور سولہ سالہ بیٹے نے رہبانیت اختیار کرلی تھی، اور انہی کے اصرار پر بھویش اور ان کی اہلیہ نے بھی عام زندگی ترک کردینے کا مشکل فیصلہ کیا۔

بھویش اور ان کی شریک حیات 22 اپریل کو باضابطہ طور پر رہبانیت اختیار کرلیں گے جس کے بعد وہ اپنے تمام رشتے داروں سے مکمل طور پر قطع تعلق کرلیں گے اور انہیں اپنے ساتھ کوئی بھی مادّی شے رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی، اس کے بعد وہ تازندگی برہنہ پا رہیں گے اور ان کا گزارہ لوگوں کی دی ہوئی خیرات پر ہوگا۔دیگر راہبوں کی طرح ان کے جسم پر صرف دو سفید کپڑے، ہاتھ میں کشکول اور ایک سفید جھاڑو ہوگا جسے وہ زمین پر بیٹھنے سے پہلے حشرات کو ہٹانے کے لیے استعمال کریں گے۔اپنی امارت کے لیے گجرات میں مشہور بھنڈاری خاندان کے دنیا کو تیاگ دینے کے فیصلے پر بہت سے لوگ حیران ہیں، تاہم اپنی تمام دولت عطیہ کرکے رہبانیت اختیار کرنے والا یہ پہلا خاندان نہیں ہے، اس سے قبل بھی ایسی کئی مثالیں موجود ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…