منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت میں بھی عدلیہ پر دبا ئوکا الزام، 600 وکلا کا چیف جسٹس کو خط

datetime 29  مارچ‬‮  2024 |

نئی دہلی(این این آئی)بھارت میں سیکڑوں وکیلوں نے چیف جسٹس آف انڈیاڈی وائی چندرچوڑ کو خط لکھ کر الزام عائد کیا ہے کہ ایک مفاد پرست گروپ عدلیہ پر دبائو ڈالنے اور انہیں بدنام کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ معاملے پر بھارتی وزیراعظم کانگریس پر برس پڑے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق وزیر اعظم مودی نے اس خط پراپوزیشن جماعت کانگریس کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ، دوسروں کو دھمکانا کانگریس کا قدیم کلچر ہے۔ وہ بے شرمی سے اپنے ذاتی مفادات کے لئے دوسروں سے عہد چاہتے ہیں لیکن قوم کے تئیں کسی بھی قسم کی وابستگی سے گریز کرتے ہیں۔وزیر اعظم مودی کے بیان پر کانگریس قیادت نے فوری ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ، وزیر اعظم نے جمہوریت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے اور آئین کو نقصان پہنچانے کے فن میں مہارت حاصل کرلی ہے۔

کانگریس کے صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت کے دور حکومت میں عدلیہ کے بحران کو اجاگر کرتے ہوئے 3 نکاتی پوسٹ لکھی۔انہوں نے کہا کہ عدلیہ کے دفاع کے نام پر عدلیہ پر حملہ کرنے میں وزیر اعظم کی بے شرمی منافقت کی انتہا ہے۔کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش نے وزیر اعظم کی پوسٹ کو ری ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے انہیں غیر آئینی قرار دیا تھا اور اب یہ بات بلا شبہ ثابت ہوگئی ہے کہ وہ کمپنیوں کو بی جے پی کو چندہ دینے پر مجبور کرنے کے لیے خوف، بلیک میلنگ اور دھمکانے کا ایک کھلا آلہ تھے۔انہوں نے کہا کہ ایم ایس پی کو قانونی گارنٹی دینے کے بجائے وزیر اعظم نے بدعنوانی کو قانونی گارنٹی دی ہے۔

گزشتہ10 سالوں میں وزیر اعظم نے جو کچھ بھی کیا وہ تقسیم کرنا، توڑ مروڑ کر پیش کرنا، موڑنا اور بدنام کرنا ہے۔ 140 کروڑ ہندوستانی بہت جلد انہیں منہ توڑ جواب دینے کا انتظار کررہے ہیں۔اس سے قبل سینئر وکیل ہریش سالوے اور بارکونسل کے چیئر پرسن منن کمار مشرا سمیت 600 سے زیادہ وکیلوں نے چیف جسٹس چندرچوڑ کو خط لکھ کر الزام لگایا تھا کہ ایک مفاد پرست گروپ عدلیہ پر دبا ڈالنے اور عدالتوں کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہا ہے، خاص طور پر سیاست دانوں سے جڑے بدعنوانی کے معاملوں میں۔

خط میں وکلا کے ایک حصے کا نام لیے بغیر الزام عائد کیا گیا تھا گیا کہ وہ دن میں سیاستدانوں کا دفاع کرتے ہیں اور پھر رات کو میڈیا کے ذریعے ججوں پراثر انداز ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔وکلا کا کہنا تھا کہ، ہم آپ کو خط لکھ رہے ہیں جس میں ایک مفاد پرست گروپ عدلیہ پر دبا ڈالنے، عدالتی عمل پر اثر انداز ہونے اور فضول منطق اور فضول سیاسی ایجنڈے کی بنیاد پر ہماری عدالتوں کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کی حرکتیں اعتماد اور ہم آہنگی کے ماحول کو خراب کر رہی ہیں۔ ان کے دبا کے ہتھکنڈے سیاسی مقدمات میں سب سے زیادہ واضح ہیں، خاص طور پر وہ جن میں بدعنوانی کے الزامات والے سیاسی شخصیات شامل ہیں۔ یہ ہتھکنڈے ہماری عدالتوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور ہمارے جمہوری تانے بانے کے لیے خطرہ ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…