منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

جرمنی میں بیرونی طلبہ کیلئے پڑھائی کے ساتھ کمانا مزید آسان

datetime 22  مارچ‬‮  2024 |

برلن(این این آئی)جرمنی نے دنیا بھر سے باصلاحیت اور ہنرمند نوجوانوں کو بلانے کے لیے ویزا کے قوائد نرم کردیے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق جرمن حکومت نے بیرونی طلبہ اور اپرنٹس کے طور پر کام کرنے والوں کے لیے ویزا کے قوائد خصوصی طور پر نرم کیے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں ہنرمند اور تجربہ کار نوجوانوں کی خدمات حاصل کی جاسکیں۔ماہِ رواں کے دوران جرمن حکومت نے ہنرمند افرادی قوت کے حصول کے لیے حوالے نئے ویزا قوائد کا دوسرا حصہ اپنایا ہے۔ اس کے تحت یورپی یونین سے باہر کے ممالک کے نوجوانون کے لیے اسٹوڈنٹ اور اپرنٹس شپ ویزا کا حصول آسان بنادیا گیا ہے تاکہ وہ بعد میں جرمن لیبر مارکیٹ میں آسانی سے ضم ہوسکیں۔

نئے قوائد کے تحت متوقع طلبہ یونیورسٹی میں داخلے کی تیاری کے دوران 9 ماہ تک جرمنی من رہ سکیں گے۔اس دوران انہیں ہر ہفتے 20 گھنٹے تک کام کرنے کی بھی اجازت ہوگی۔ اس کے نتیجے میں وہ اپنے اخراجات خود برداشت کرنے کے قابل ہوجائیں گے۔ویزا سے متعلق قوانین اور قوائد میں نرمی کا مقصد نوجوانوں کو کریئر کے حوالے سے سہولتیں فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ جرمن معیشت کو مستحکم کرنا بھی ہے۔رپورٹ کے مطابق جرمنی میں بیرونی طلبہ اب پڑھائی کے ساتھ ساتھ معاشی سرگرمیوں میں بھی زیادہ آسانی سے حصہ لے سکیں گے کیونکہ انہیں سال میں 140 دن کل وقتی بنیاد پر کام کرنے کی اجازت ہوگی۔یہ لچک طلبہ کے لیے انتہائی موافق ہے کیونکہ وہ پڑھنے کے ساتھ ساتھ معاشی طور پر خود مختاری یقینی بنانے میں بھی کامیاب ہوں گے۔

اس کے نتیجے میں جرمنی انتہائی باصلاحیت نوجوانوں کی منزل بن سکے گا۔جرمن حکومت کی طرف سے متعارف کرائے جانے والے نئے ویزا قوانین و قوائد دنیا بھر میں ہنرمند نوجوانوں کی شدید قلت کے تناظر میں ہیں۔ کورونا وائرس کی وبا کے بعد معیشتوں کو مکمل بحالی کے لیے بڑے پیمانے پر ہنرمند افرادی قوت کی ضرورت ہے۔ امریکا، کینیڈا اور یورپ اس معاملے میں پیش پیش ہیں۔بہت سے ملکوں نے دنیا بھر کے باصلاحیتوں کو متوجہ کرنے کے لیے ورک فرام ہوم اور دیگر سہولتیں فراہم کی ہیں۔ جرمنی بیرونی طلبہ کو اس حوالے سے برابر کی سہولت فراہم کر رہا ہے۔جرمنی حکومت کو اس بات کا شدت سے احساس ہے کہ ہنرمند اندرونی و بیرونی نوجوان معیشت کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…