منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

مخصوص ٹوپی نہ پہننے کی ہدایت پر امریکی وفد سعودی عرب سے روانہ

datetime 12  مارچ‬‮  2024 |

واشنگٹن(این این آئی)مذہبی آزادی سے متعلق ایک امریکی وفد نے کہاہے کہ انہوں نے اپنا سعودی عرب کا دورہ اس وقت مختصرکردیا جب وفد کے ایک رکن سے کہا گیا کہ وہ اپنی مخصوص ٹوپی اتار دیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی(یو ایس سی آئی آر ایف)کا کہنا تھا کہ ان کا وفد ریاض کے قریب ایک تاریخی قصبے اور یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کے مقام دیریہ کا دورہ کر رہا تھا جب کمیشن کے سربراہ آرتھوڈوکس ربی ابراہم کوپر نے اپنا kippah اتارنے سے متعلق ان کی بات ماننے سے انکار کردیا۔کوپر نے اس حوالے سے اپنے ایک بیان میں کہا کہ کسی کو بھی ثقافتی ورثے تک رسائی سے انکار نہیں کیا جانا چاہئیے ، خاص طور پر جس کا مقصد اتحاد اور ترقی کو اجاگر کرنا ہے۔

یو ایس سی آئی آر ایف کا کہنا تھا کہ کوپر اور اس کے نائب صدر ریورنڈ فریڈرک ڈیوی کو گزشتہ منگل کو اپنے سرکاری دورے کے حصے کے طور پر سائٹ کا دورہ کرنے کی دعوت دی گئی تھی جب دورے میں کئی بار تاخیر کے بعد حکام نے درخواست کی تھی کہ کوپر اس مقام پر رہتے ہوئے اور جب بھی وہ عوامی طور پر موجود ہوں تو اپنا کپہ ہٹا دیں، حالانکہ اس سائٹ کے دورے کی منظوری سعودی وزارت خارجہ نے دی تھی۔ربی ابراہم کوپر نے کہاکہ سعودی عرب اپنے 2030 وژن کے تحت حوصلہ افزا تبدیلیوں کے درمیان میں ہے، تاہم، خاص طور پر اس وقت جب یہود دشمنی میں اضافہ ہو رہا ہے، میرے کپہ کو ہٹانے کے لیے کہا گیاجس کی وجہ سے ہمارے لیے یو ایس سی آئی آر ایف سے اپنا دورہ جاری رکھنا ناممکن ہو گیا۔امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (یو ایس سی آئی آر ایف)کی جانب سے کہا گیا ہے کہ یہ خاص طور پر افسوسناک ہے کہ مذہبی آزادی کو فروغ دینے والی امریکی سرکاری ایجنسی کے نمائندے کے ساتھ ایسا ہوا۔

کمیشن امریکی حکومت کا ایک مشاورتی ادارہ ہے جسے امریکی کانگریس کی جانب سے لازمی قرار دیا گیا ہے۔یو ایس سی آئی آر ایف کے وائس چیئر ڈیوی نے اس واقعے کو حیران کن اور تکلیف دہ قرار دیا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ حکومت کی جانب سے تبدیلی کے سرکاری بیانیے کی براہ راست نفی کرتا ہے۔واشنگٹن میں سعودی سفارت خانے نے فوری طور پر اے ایف پی کی جانب سے تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب سعودی عرب اور امریکہ کے اتحادی اسرائیل کے درمیان غزہ کی جنگ پر تنا اور تنازع ختم ہونے کے بعد دونوں ریاستوں کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کی امریکی کوششیں جاری ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…