منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

کویت میں نئے ویزا قوانین سے پاکستانیوں کو مشکلات کاسامنا

datetime 29  جنوری‬‮  2024 |

کویت سٹی(این این آئی)کویت میں دی ریزیڈنسی افیئرز ڈپارٹمنٹ نے ڈیڑھ سال کے وقفے کے بعد فیملی ویزا کے لیے نئے قوانین کے تحت درخواستیں وصول کرنا شروع کردیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق کویت کے 6گورنریٹس اور مرکزی دفتر میں فیملی ویزا کے لیے بہت بڑی تعداد میں درخواستیں جمع کرائی جارہی ہیں۔

نئے فیملی ویزا قوانین سے پاکستان سمیت 7ملکوں کے لوگوں کے لیے مشکلات پیدا ہوئی ہیں۔نئے قوانین کے تحت فیملی ویزا کی درخواستیں وہ لوگ جمع کراسکیں گے جن کی ماہانہ آمدنی 800 کویتی دینار سے زیادہ ہے۔ ساتھ ہی ساتھ ہی بھی لازم ہے کہ وہ جس شعبے سے وابستہ ہیں ان کی تعلیمی سند بھی اسی شعبے سے تعلق رکھتی ہو۔یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ جن ممالک پر اس حوالے سے پابندی عائد ہے ان کے لوگوں سے درخواستیں وصول کی جارہی ہیں یا نہیں۔

ان میں عراق، شام، افغانستان، پاکستان، ایران، یمن اور سوڈان شامل ہیں۔ایک شامی باشندے نے بتایا کہ اس سے فیملی ویزا کی درخواست وصول تو کرلی گئی ہے تاہم دو دن بعد آنے کو کہا گیا ہے کیونکہ شام اور دیگر ممنوع ملکوں کے حوالے سے ہدایات موصول نہیں ہوئیں۔ذرائع کا کہنا تھا کہ 6گورنریٹس میں دی ریزیڈنسی افیئرز ڈپارٹمنٹ اور دجیج میں مرکزی دفتر نے پہلے ہی دن فیملی ویزا کی درخواستیں بڑی تعداد میں وصول کیں۔

نائب وزیر اعظم، وزیر دفاع اور قائم مقام وزیر داخلہ شیخ فہد الصباح نے وزارتی حکم نامہ نمبر 957/2019 میں غیر ملکیوں کے لیے رہائش کے قوانین سے متعلق چند تبدیلیوں کا حکم دیا تھا جس کے تحت ریگیولر فیملی ریزیڈنسی پرمٹ کے حصول کے لیے شرائط کی تصریح کی گئی تھی۔ بعض غیر ملکی محنت کشوں کو تعلیمی سند کی شرط کے معاملے میں رعایت دی گئی ہے۔

غیر ملکی خاندان کے ساتھ رہنے کے لیے درخواست جمع کرانے والے جو لوگ ملک میں رہتے آئے ہیں یا یہیں پیدا ہوئے یا جو کویت سے باہر پیدا ہوئے تاہم پانچ سال سے زیادہ کے نہیں ہیں ان کے لیے آمدنی کی شرط بھی نرم کی گئی ہے۔ فیملی ویزا سے متعلق نئے قوانین کا اطلاق سرکاری گزٹ میں ان کی اشاعت کے دن سے ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…