منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

کینسرمیں مبتلا بچے کو شفا کیلئے دریائے گنگا میں ڈبودیا

datetime 25  جنوری‬‮  2024 |

نئی دہلی(این این آئی)بھارت میں خون کے کینسر میں مبتلا 5 سالہ بچے کے والدین اور اس کی خالہ کا خیال تھا کہ دریائے گنگا کا پانی ان کے بیمار بچے کو صحیح کردے گا۔بھارتی میڈیا کے مطابق دہلی شہر میں رہائش پذیر یہ خاندان کل صبح تقریبا 9 بجے ہریدوار کے لیے روانہ ہوا تھا۔ٹیکسی ڈرائیور کے مطابق بچے کے ساتھ اس کے والدین اور ایک اور خاتون رشتے دار بھی تھی، بچہ کی حالت انتہائی خراب تھی اور اس کے گھر والوں نے بتایا کہ وہ کینسر میں مبتلا ہے اور دہلی کے ڈاکٹروں نے اس کے صحیح ہونے کی تمام امیدیں چھوڑ دی ہیں۔

اس واقعے سے متعلق پتا چلا ہے کہ بچے کو اس کی خالہ نے سرد موسم میں دریائے گنگا کے پانی میں ڈبویا جبکہ والدین اس دوران مذہبی رسومات ادا کرتے رہے۔ عینی شاہدین کا کہناتھا کہ بچے کو کافی دیر تک پانی کے اندر ڈبویا گیا، اس موقع پر وہاں موجود لوگوں نے بچے کے گھر والوں کو ایسا کرنے سے روکا تاہم نہ ماننے پر وہاں موجود افراد نے زبردستی لڑکے کو پانی سے باہر نکالا۔ بچے کی خالہ نے اس وقت ناراضگی اور غصے کا اظہار کیا اور بچے کو باہر نکالنے والوں سے ہاتھا پائی بھی کی۔

بعدازاں بچے کو اسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔ہریدوار شہر کے پولیس چیف کا کہنا تھا کہ اہلخانہ نے بتایا کہ بچے کا دہلی کے ایک جدید اسپتال میں کینسر کا علاج چل رہا تھا تاہم ڈاکٹروں نے بالآخر ہار مان کر انہیں بتایا تھا کہ بچے کو بچایا نہیں جا سکتا۔انہوں نے بتایا کہ خاندان کا خیال تھا کہ دریائے گنگا سے بچے کو شفا ملے گی، ہمیں دہلی کے اسپتال سے رپورٹس مل رہی ہیں، ایسا لگتا ہے کہ بچے کو وہ یہاں اس لیے لائے کہ کیونکہ انہیں یقین تھا کہ گنگا میں نہلانے سے بچہ ٹھیک ہو جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…