منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

گوگل میں مزید 30 ہزار ملازمین کے سروں پر چھانٹی کی تلوار لٹکنے لگی

datetime 23  دسمبر‬‮  2023 |

نیویارک(این این آئی)گوگل کے مزید 30 ہزار سے زائد ملازمین کے سروں پر چھانٹی کی تلوار لٹک رہی ہے۔ مختلف ذرائع سے حاصل یونے والی رپورٹس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی حامل ملازمتیں گوگل کی اندرونی ساخت کی تبدیلی کا باعث بن سکتی ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ماہرین کا کہنا تھا کہ گوگل کے مجموعی سیٹ اپ میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال سے بہت سے ملازمین کو یا تو فارغ کیا جاسکتا ہے یا پھر انہیں دوسرے شعبوں میں کھپانے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔ خیال ہے کہ زیادہ تبادلے کسٹمرز سیلز یونٹ میں ہوں گے۔ یہ شعبہ کمپنی کو اشتہار دینے والے بڑے اداروں سے روابط بہتر بنائے رکھنے کا ذمہ دار ہے۔

سیلز کے شعبے میں فی الحال 13500 افراد تعینات ہیں۔گوگل کی انتظامیہ بہت سے ملازمین کے تبادلے کرکے مصنوعی ذہانت کی حامل ملازمتوں کی گنجائش پیدا کرنا چاہتی ہے۔ مختلف شعبوں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کی بڑھتی ہوئی گنجائش اور ضرورت کے باعث گوگل انتظامیہ بھی شدید دبائو کی زد میں ہے۔نئی ذمہ داریاں سونپے جانے کی خبروں سے گوگل کے ملازمین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ وہ فارغ کیے جانے کے خدشے کا شکار ہیں۔ واضح رہے کہ رواں سال گوگل نے 12 ہزار ملازمین کو فارغ کیا ہے۔ مصنوعی ذہانت والی ملازمتوں کو اولیت دینے کی صورت میں مزید 30 ہزار ملازمین کو فارغ کیا جاسکتا ہے۔گوگل نے اپنے مختلف پلیٹ فارمز پر اشتہارات کی وصولی اور بکنگ کے عمل میں مصنوعی ذہانت سے بھرپور استفادہ شروع کردیا ہے۔

سال رواں کے دوران گوگل نے مصنوعی ذہانت سے کام کرنے والے کئی ٹول متعارف کرائے ہیں جن کے ذریعے نئے اشتہارات بھی تیار کیے جارہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں آمدنی دسیوں ارب ڈالر بڑھی ہے اور منافع کمانے کی صلاحیت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ مصنوعی ذہانت والے ٹولز کے استعمال میں ملازمین کی ضرورت نہیں پڑتی۔مئی میں گوگل نے مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کیے جانے والے اشتہارات کے دور کی آمد کا اعلان کیا تھا۔ مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کیے جانے والے اشتہارات میں زبان فطری ہوتی ہے اور کی ورڈز کا انتخاب بھی تیز اور موزوں ہوتا ہے۔ مصنوعی ذہانت کی مدد سے اشتہارات تیار کرنے والا ٹول PMax تیزی سے مقبولیت حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…