منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستانی فنکاروں پر پابندی کی درخواست بھارتی سپریم کورٹ نے مسترد کردی

datetime 28  ‬‮نومبر‬‮  2023 |

نئی دہلی (این این آئی)بھارتی سپریم کورٹ نے پاکستانی فنکاروں پر ہندوستان میں پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کرنیوالی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک لغو اور بے بنیاد درخواست ہے۔تفصیلات کے مطابق بھارتی سپریم کورٹ میں جسٹس سنیل بی شکرے اور جسٹس فردوش پی پونی والا پر مشتمل دو رکنی بینچ نے فیض انور قریشی کی بھارت میں پاکستانی فنکاروں پر پابندی عائد کرنے بارے دائر درخواست پر سماعت کی جس میں ممبئی ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔

سماعت کے دوران وکیل نے کہا کہ ہائی کورٹ نے درخواست گزار کے حب الوطنی کے تصور پر تنقید کرتے ہوئے فیصلے کے پیراگراف 10میں کچھ تبصرے کئے ہیں۔اس پر بنچ نے کہا کہ معاف کریں، ایسا نہ کریں، یہ آپ کیلئے ایک اچھا سبق ہے، اتنا تنگ نظر نہ بنیں۔عدالت نے کہا کہ کسی کو یہ سمجھنا چاہئے کہ محب وطن ہونے کے لئے کسی کو بیرون ملک رہنے والے لوگوں، خاص طور پر پڑوسی ملک کے لوگوں سے دشمنی کرنے کی ضرورت نہیں ہے، ایک سچا محب وطن وہ شخص ہے جو بے لوث ہو، جو اپنے ملک کیلئے وقف ہو، جو وہ اس وقت تک نہیں کر سکتا جب تک کہ وہ دل سے اچھا انسان نہ ہو۔

عدالت نے ریمارکس میں کہا کہ ایک شخص جس کا دل اچھا ہے وہ اپنے ملک میں ایسی کسی بھی سرگرمی کا خیرمقدم کرے گا جو ملک کے اندر اور سرحد کے پار رقص، آرٹ، موسیقی، کھیل، ثقافت، امن، ہم آہنگی اور سکون وغیرہ کو فروغ دیتی ہو۔عدالت نے کہا کہ یہ ایسی سرگرمیاں ہیں جو قومیتوں، ثقافتوں اور قوموں سے بالاتر ہیں اور حقیقی معنوں میں ملک اور قوموں کے درمیان امن، اتحاد اور ہم آہنگی لاتی ہیں۔عدالت نے کہا کہ یہ درخواست ریلیف کیساتھ جو کچھ چاہتی ہے، وہ ثقافتی ہم آہنگی، اتحاد اور امن کو فروغ دینے کی طرف ایک پیچھے ہٹنے والا قدم ہے، اس درخواست میں کوئی قابلیت نہیں ہے، ایک ایک لغو اور اور بے بنیاد درخواست ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…