سکیورٹی خدشات کی وجہ سے سعودی کمپنی کا پاکستان کے ساتھ معاہدے سے انکار

28  ‬‮نومبر‬‮  2023

ریاض(این این آئی)سعودی کمپنی اے سی ڈبلیو اے پاور نے سکیورٹی خدشات کے باعث پاکستان کے ساتھ شمسی توانائی کے منصوبوں پر دستخط سے انکار کردیا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ریاض میں پاکستان کے سفیر نے حال ہی میں چیئرمین اے سی ڈبلیو اے پاور محمد ابونیانان سے ملاقات کی، اس دوران پاکستان میں تعینات سعودی سفیر بھی موجود تھے۔

اے سی ڈبلیو اے پاور جنریشن اور واٹر ڈی سیلینیشن پلانٹس کے پورٹ فولیو کا ڈویلپر، سرمایہ کار اور آپریٹر ہے جو 12 ممالک میں موجود ہے، کمپنی کا پاور سیکٹر پورٹ فولیو 74.8 ارب ڈالر سے زائد ہے اور 50 گیگاواٹ سے زیادہ بجلی اور 7.6 ملین میٹر فی دن ڈی سیلینیٹڈ پانی کی صلاحیت رکھتا ہے۔پاکستان کے سفیر کے مطابق اے سی ڈبلیو اے پاور پاکستان کے سولر سیکٹر میں سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی رکھتی تھی لیکن سکیورٹی خدشات اور کچھ اہم عوامل کی عدم موجودگی کی وجہ سے اس کی کوششیں کامیاب نہیں ہوسکیں جن میں بیس ٹیرف کا فقدان، جی ٹو جی تعاون کے لیے قانونی فریم ورک، زمین، بجلی کی ادائیگی کی صلاحیت اور گرڈ کے ساتھ رابطے کے مسائل شامل ہیں۔اس ضمن میں وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ یہ سعودی حکومت کے لیے بہت اہم اقدام ہے اور ولی عہد محمد بن سلمان خود بھی اس میں دلچسپی رکھتے ہیں جس کا ذکر انہوں نے اکتوبر 2022 میں ایک ملاقات میں سابق وزیراعظم شہباز شریف سے کیا تھا۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ اس ہائی پروفائل تجویز کو آگے بڑھانے کے لیے چیئرمین ابونیان نے سفیر کی اس درخواست پر رضامندی ظاہر کی کہ وہ وزارت توانائی میں ملاقاتوں اور بریفنگ کے لیے پاکستان کا دورہ کریں۔ اس سلسلے میں پاکستان کے سفیر نے پاور ڈویژن اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے پیشگی تیاریوں کی تجویز دی تاکہ اس دورے کو نتیجہ خیز بنایا جا سکے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ کے الیکٹرک نے قابل تجدید توانائی (آر ای)کے تین ہزار میگاواٹ کے منصوبوں کی ترقی اور بجلی کے حصول میں دلچسپی کا اظہار کیا جو اے سی ڈبلیو اے پاور کی طرف سے تیار کیا جائے گا۔کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفسر سید مونس عبداللہ علوی کی جانب سے وفاقی حکومت کو لکھے گئے خط کے مطابق کمپنی نے ایک مضبوط طویل مدتی ترقیاتی منصوبہ تیار کیا جس میں مقامی وسائل پر مبنی آر ای منصوبوں اور بیس لوڈ صلاحیت کی ترقی پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔

آر ای جنریشن منصوبوں کی ترقی کے الیکٹرک کی طویل مدتی جنریشن پلاننگ حکمت عملی کا سنگ بنیاد ہے، جو آر ای پر مبنی متعدد اقدامات کی ترقی کے عمل میں ہے۔رپورٹ کے مطابق سعودی اے سی ڈبلیو اے نے اس سے قبل بھی پاکستانی مارکیٹ میں قدم رکھنے کی کوشش کی تھی جہاں اس نے 2019 میں حکومت پاکستان کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے تھے، جس میں شمسی اور ہوا توانائی کے شعبے میں 4 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری شامل تھی۔

تاہم بدقسمتی سے ماضی کی دلچسپی کو مختلف رکاوٹوں کے عوامل کی وجہ سے عملی جامہ نہیں پہنایا جا سکا تھا۔اب کے الیکٹرک کو یقین ہے کہ وہ اے سی ڈبلیو اے پاور کو قائل کر سکتا ہے وہ کے الیکٹرک کو بجلی فروخت کرنے کے لیے پاکستان میں آر ای منصوبوں کی ترقی میں اپنی دلچسپی پر نظر ثانی کرے اور اس کے جوائنٹ پارٹنر کی حیثیت سے کام کرے۔



کالم



مرحوم نذیر ناجی(آخری حصہ)


ہمارے سیاست دان کا سب سے بڑا المیہ ہے یہ اہلیت…

مرحوم نذیر ناجی

نذیر ناجی صاحب کے ساتھ میرا چار ملاقاتوں اور…

گوہر اعجاز اور محسن نقوی

میں یہاں گوہر اعجاز اور محسن نقوی کی کیس سٹڈیز…

نواز شریف کے لیے اب کیا آپشن ہے (آخری حصہ)

میاں نواز شریف کانگریس کی مثال لیں‘ یہ دنیا کی…

نواز شریف کے لیے اب کیا آپشن ہے

بودھ مت کے قدیم لٹریچر کے مطابق مہاتما بودھ نے…

جنرل باجوہ سے مولانا کی ملاقاتیں

میری پچھلے سال جنرل قمر جاوید باجوہ سے متعدد…

گنڈا پور جیسی توپ

ہم تھوڑی دیر کے لیے جنوری 2022ء میں واپس چلے جاتے…

اب ہار مان لیں

خواجہ سعد رفیق دو نسلوں سے سیاست دان ہیں‘ ان…

خودکش حملہ آور

وہ شہری یونیورسٹی تھی اور ایم اے ماس کمیونی کیشن…

برداشت

بات بہت معمولی تھی‘ میں نے انہیں پانچ بجے کا…

کیا ضرورت تھی

میں اتفاق کرتا ہوں عدت میں نکاح کا کیس واقعی نہیں…