منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

مغربی کنارے پر بھی اسرائیلی بمباری؛ مجموعی شہادتیں 5 ہزار 900 سے متجاوز

datetime 25  اکتوبر‬‮  2023 |

غزہ(این این آئی) اسرائیل کی غزہ پر مسلسل 24 گھنٹے جاری بمباری میں شہید فلسطینیوں کی تعداد 700 سے زائد ہوگئی جس کے باعث غزہ میں 7 اکتوبر سے اب تک شہید فلسطینیوں کی تعداد 5800 سے تجاوز کرگئی جب کہ مغربی کنارے میں بمباری میں بھی 100 سے زائد شہادتیں ہوچکی ہیں۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیل نے 7 اکتوبر سے غزہ کے ساتھ ساتھ مغربی کنارے پر بھی بمباری کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے جہاں شہادتوں کی تعداد 100 ہوچکی ہے جب کہ غزہ میں ئی تعداد میں 5 ہزار 800 تک جا پہنچی اور 16 ہزار زخمی ہیں۔دوسری جانب اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی ناکہ بندی کے باعث غزہ میں فیول کی قلت کا سامنا ہے اور اب صرف اسپتال میں ایمرجنسی کے استعمال کے لیے بچا ہے۔

اقوام متحدہ نے ناکہ بندی کھولنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا اگر ایسا نہ کیا گیا تو اسپتال بند ہوجائیں گے اور ہزاروں زخمی طبی امداد کی فراہمی سے محروم ہوجائیں گے۔اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری نے اسرائیلی بمباری کی مذمت بھی کی جس پر اسرائیل نے الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق انتونیو گوتریس سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا۔اسرائیلی فورسز نے الجبالیہ کے پناہ گزین کیمپ کو بھی نشانہ بنایا۔ اس علاقے میں ایک اسپتال اور ایک تاریخی مسجد بھی بمباری میں مسمار ہوچکی ہے۔

الجبالیہ میں اسرائیلی بمباری کو بلا تعطل 24 گھنٹے ہوگئے جس کے دوران شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 706 ہوگئی جب کہ 100 سے زائد زخمی ہیں۔ القدس اور الشفا اسپتال بھی تباہ ہوگئے۔7 اکتوبر سے اسرائیل کی غزہ پر بمباری میں شہید ہونے والوں کی مجموعی تعداد 5 ہزار 791 ہوگئی ہے جب کہ زخمیوں کی تعداد 16 ہزار سے زائد ہوچکی ہے۔یاد رہے کہ گزشتہ روز اسرائیل نے ایک بار پھر غزہ کے شمالی علاقوں سے انخلا کے لیے الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا کہ جو شہری جنوبی غزہ منتقل نہیں ہوئے انھیں حماس کا حامی کا سمجھا جائے گا۔اسرائیلی فوج نے دھمکی دی تھی کہ شمالی غزہ میں الٹی میٹم کے بعد بھی رہ جانے والے فلسطینی شہریوں کو بھی نشانہ بنایا جائے گا۔ شہری حماس کے لیے انسانی ڈھال نہ بنیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…