جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

روس کا یوکرین پر حملے کا خدشہ، تیل کی قیمت 100ڈالر فی بیرل کے قریب جا پہنچی

datetime 23  فروری‬‮  2022 |

ماسکو(این این آئی)خام تیل پیدا کرنے والے بڑے ملک روس کی جانب سے یوکرین کے دوعلیحدگی پسند علاقوں میں فوج بھیجنے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق کھلتے ساتھ ہی ایک دم گراوٹ کے بعد یورپی اسٹاک رہا کیونکہ کریملن نے کہا تھا کہ اس نے یوکرین کے معاملے پر تمام سفارتی راستے کھلے رکھے ہیں

جس پر مغربی ممالک نے پابندیوں کا نفاذ روک دیا تھا۔عالمی منڈی میں برینٹ نارتھ سی خام تیل کی قیمت 99.50 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی، جو 7 سال کی بلند ترین سطح ہے۔ تاہم گرینچ وچ ٹائم کے مطابق تقریبا ساڑھے 4 بجے یہ واپس 97 ڈالر فی بیرل سے کم ہو گئی، انٹیریکٹو انویسٹر میں انویسٹمنٹ کے سربراہ وکٹوریہ اسکالر نے کہا کہ روس اور یوکرین کے درمیان بڑھتے ہوئے تنازع نے سپلائی میں رکاوٹوں کے خدشات کو جنم دیا ہے جس کے نتیجے میں لگائی جانے والی پابندیوں سے روس کمزور ہوتا دکھے گا۔واضح رہے کہ روس دنیا میں تیل کا دوسرا بڑا برآمد کنندہ سب سے زیادہ قدرتی گیس پیدا کرنے والے ملک ہے۔دوسری جانب تھنک مارکیٹ کے تجزیہ کار فواد رزاق زادہ نے کہا آگے کچھ بھی ہو، ایک چیز واضح ہے، توانائی کی قیمتیں تیزی سے واپس نیچے آنے کا امکان نہیں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ صارفین کی قابل استعمال آمدنی پہلے ہی بڑھتی ہوئی افراط زر کی وجہ سے پھیل چکی ہے، اگر تیل اور توانائی کی دیگر قیمتیں بڑھتی رہیں تو اس سے معاشی بحالی کو نقصان پہنچ سکتا ہے، اور ممکنہ کساد بازاری کے خدشات بڑھ سکتے ہیں۔تیل کی قیمتوں میں اضافہ دنیا بھر میں مہنگائی کے حوالے سے تشویش میں اضافہ کر رہا ہے۔امریکی فیڈرل ریزرو پر قیمتوں کو قابو سے باہر ہونے سے روکنے کے لیے مانیٹری پالیسی کو سخت کرنے کے لیے شدید دبا ہے۔اس صورتحال میں سرمایہ کاری کی جنت سمجھے جانے والے سونے کی قیمت 19 سو ڈالر فی اونس سے تجاوز کرچکی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…