ہفتہ‬‮ ، 29 ‬‮نومبر‬‮ 2025 

سابق افغان سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت، امریکہ اور یورپ کو تشویش

datetime 5  دسمبر‬‮  2021 |

کابل (این این آئی)امریکہ اور یورپ سمیت دیگر ممالک نے طالبان کے ہاتھوں افغان سکیورٹی فورسز کے سابق اہلکاروں کی مبینہ ہلاکتوں اور جبری گمشدگیوں کی مذمت کرتے ہوئے فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اتوار کو امریکہ، یورپی یونین، برطانیہ، آسٹریلیا، جاپان اور دیگر ممالک نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ہمیں ماورائے

عدالت قتل اور جبری گمشدگیوں کی رپورٹس پر تشویش ہے۔ یہ بیان امریکی محکمہ خارجہ نے جاری کیا جس میں ماورائے عدالت قتل اور جبرہ گمشدگیوں پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مبینہ کارروائیاں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہیں اور یہ طالبان کی جانب سے عام معافی کے اعلان کے برعکس ہے۔ان ممالک نے افغانستان کے نئے حکمرانوں سے مطالبہ کیا ہے کہ ’عام معافی کے نفاذ کو یقینی بنایا جائے اور شفاف طریقے سے رپورٹ ہوئے کیسز کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔ ذمہ داروں کو جوابدہ ٹھہرانا چاہیے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ طالبان کو ان کے اقدامات کی بنیاد پر پرکھا جائے گا۔رواں ہفتے کے اوائل میں ہیومن رائٹس واچ کی ایک نئی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ طالبان نے افغان سکیورٹی فورسز کے سو سے زیادہ سابق اہلکاروں کو ہلاک اور جبری طور پر لاپتہ کیا ہے جبکہ سابق سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کے خاندانوں کو بھی نشانہ بنایا۔ہیومن رائٹس واچ نے کہا تھا کہ عام معافی کے اعلان کے باوجود سابق سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا۔طالبان نے اگست میں افغانستان کا کنٹرول حاصل کیا اور امریکی حمایت یافتہ حکومت اور ملک کی فوج پسپا ہوگئی تھی۔رواں ہفتے واشنگٹن نے طالبان حکام کے ساتھ مذاکرات کیے تھے۔ مذاکرات میں امریکہ نے طالبان پر زور دیا تھا کہ خواتین اور لڑکیوں کو تعلیم تک رسائی دی جائے۔امریکہ نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات پر بھی تشویش کا اظہار کیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل فیض حمید کے کارنامے(چوتھا حصہ)


عمران خان نے 25 مئی 2022ء کو لانگ مارچ کا اعلان کر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(تیسرا حصہ)

ابصار عالم کو 20اپریل 2021ء کو گولی لگی تھی‘ اللہ…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(دوسرا حصہ)

عمران خان میاں نواز شریف کو لندن نہیں بھجوانا…

جنرل فیض حمید کے کارنامے

ارشد ملک سیشن جج تھے‘ یہ 2018ء میں احتساب عدالت…

عمران خان کی برکت

ہم نیویارک کے ٹائم سکوائر میں گھوم رہے تھے‘ ہمارے…

70برے لوگ

ڈاکٹر اسلم میرے دوست تھے‘ پولٹری کے بزنس سے وابستہ…

ایکسپریس کے بعد(آخری حصہ)

مجھے جون میں دل کی تکلیف ہوئی‘ چیک اپ کرایا تو…

ایکسپریس کے بعد(پہلا حصہ)

یہ سفر 1993ء میں شروع ہوا تھا۔ میں اس زمانے میں…

آئوٹ آف سلیبس

لاہور میں فلموں کے عروج کے زمانے میں ایک سینما…

دنیا کا انوکھا علاج

نارمن کزنز (cousins) کے ساتھ 1964ء میں عجیب واقعہ پیش…

عدیل اکبرکو کیاکرناچاہیے تھا؟

میرا موبائل اکثر ہینگ ہو جاتا ہے‘ یہ چلتے چلتے…