جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

ترک صدر کا امریکا،جرمنی سمیت 10 ممالک کے سفرا ء کوبے دخل کرنیکا حکم

datetime 24  اکتوبر‬‮  2021 |

انقرہ (این این آئی)ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے اپنے وزیرخارجہ کو امریکا اور جرمنی سمیت 10 ممالک کے سفیروں کو ملک سے بے دخل کرنے کاحکم دیا ہے۔ان سفرانے ترکی میں جیل میں قید سول سوسائٹی کے ایک رہ نما کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔میڈیارپورٹس کے مطابق

انھوں نے ایک بیان میں کہاکہ میں نے اپنے وزیرخارجہ کو حکم دیا کہ وہ ان 10 سفیروں کو جلد سے جلد ناپسندیدہ شخصیات(پرسونا نان گراٹا)قرار دے دیں۔انھوں نے ان غیرملکی ایلچیوں پرغیرشائستگی کاالزام عاید کرتے ہوئے کہا کہ انھیں ترکی کو جاننا اورسمجھنا چاہیے۔انھوں نے سفیروں کے بارے میں کہا کہ انھیں اس دن یہاں سے چلے جانا چاہیے جب وہ ترکی کو نہیں جانتے۔ان دس غیرملکی سفرا نے گذشتہ پیرکوانتہائی غیرمعمولی مشترکہ بیان جاری کیا تھا اور اس میں پیرس میں پیدا ہونے والے مخیرشخص اور کارکن عثمان قوالا کی مسلسل حراست پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس نے ترکی پرسایہڈال دیا ہے۔امریکا، جرمنی، کینیڈا، ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس، نیدرلینڈز، نیوزی لینڈ، ناروے اور سویڈن کے سفیروں نے اس مشترکہ بیان میں قوالا کے معاملے کے درست اور فوری حلکا مطالبہ کیا تھا۔عثمان قوالا 2017 سے کسی سزا کے بغیرجیل میں بندہیں۔ انھیں 2013 میں حکومت مخالف مظاہروں اور 2016 میں ناکام فوجی بغاوت سے تعلق پر مختلف الزامات کا سامنا ہے۔صدر ایردوآن کے خلاف ناکام فوجی بغاوت کے بعد ان کی حکومت نے اپنے مخالفین بالخصوص امریکا میں مقیم مذہبی دانشور فتح اللہ گولن کی تحریک کے خلاف خونیں کریک ڈائون کیا تھا اور ہزاروں افراد کو گرفتار کرکے پابندسلاسل کردیا گیا تھا اور گولن تحریک سے تعلق پر ہزاروں کی تعداد میں فوجیوں اورسرکاری ملازمین کو برخواست کردیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…