جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

سعودی ولی عہد کی پیش کردہ قومی سرمایہ کاری حکمت عملی کا آغاز

datetime 12  اکتوبر‬‮  2021 |

ریاض (این این آئی)سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے مملکت کی قومی سرمایہ کاری حکمت عملی (این آئی ایس)پیش کر دی ہے۔سرکاری سعودی پریس ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق نیشنل انویسٹمنٹ اسٹریٹجی سعودی عرب کے وژن 2030 کے اہداف کے حصول کے لیے اہم عوامل میں سے ایک ہے۔سرمایہ کاری کی قومی حکمت عملی سعودی معیشت کی ترقی اور اس کے ذرائع کو

متنوع بنانے میں معاون ثابت ہوگی جس سے وژن 2030 کے بہت سے اہداف حاصل ہوں گے۔ان میں نجی شعبے کی مجموعی ملکی پیداوار میں شراکت کو 65 فی صد تک بڑھانا اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینا شامل ہے تاکہ وہ مجموعی قومی پیداوار(جی ڈی پی)5.7 فی صد تک پہنچ سکے۔سعودی وژن 2030 کا آغاز کرتے ہوئے ولی عہد نے کہا تھاکہ ہمارے ملک میں سرمایہ کاری کے بہت زیادہ مواقع موجود ہیں اور ہم اپنی معیشت کے لیے ایک انجن اور اپنے ملک کے لیے اضافی وسائل پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔سرمایہ کاری کی نئی حکمت عملی سے سعودی عرب کی غیرتیل برآمدات کے تناسب کو مجموعی غیرتیل جی ڈی پی کے 16 فی صد سے بڑھا کر 50 فی صد تک کیا جائے گا۔ نیز بے روزگاری کی شرح کو 7 فی صد تک کم کرنے اور 2030 تک عالمی مسابقتی اشاریہ میں مملکت کودس اعلی ممالک میں شامل کرنے کے وژن کے اہداف بھی حاصل ہوں گے۔ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ ہمیں خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیزآل سعود کی قیادت میں وژن 2030 کے پہلے مرحلے کے دوران میں حاصل ہونے والی قابل ذکر کامیابیوں پر فخر ہے۔انھوں نے قومی سرمایہ کاری حکمت عملی کے آغاز کے موقع پر کہا کہ ہم متنوع اور پائیدار معیشت سے مالامال روشن مستقبل کی راہ ہموار کرنے کے لیے اپنا کام جاری رکھیں گے۔انھوں نے مزید کہا کہ یہ حکمت عملی اس مقصد کے حصول کا ایک ذریعہ ہے اور ہمیں اپنے اولین اہداف تک پہنچنے اور اپنے عظیم لوگوں کی امنگوں کو پورا کرنے کے لییاپنی صلاحیتوں پر بھروسے کی بھی مظہرہے۔ولی عہد کے مطابق قومی سرمایہ کاری حکمت عملی کا محورسرمایہ کاروں کو بااختیار بنانا، سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرنا، مالیاتی حل فراہم کرنا اور مسابقت کو بڑھاناہے۔یہ سرکاری اور نجی شعبوں کے درمیان شراکت داری کو بڑھانے میں بھی معاون ثابت ہوگی۔شہزادہ محمد نے وضاحت کی کہ مملکت کے اہم سرمایہ کاری اہداف مشترکہ کوششوں اور پبلک انویسٹمنٹ فنڈ (پی آئی ایف)جیسے متعدد اداروں کی اپنی حکمت عملی کے مطابق سعودی عرب میں سرمایہ کاری کے ذریعے حاصل کیے جائیں گے۔انھوں نے زور دے کر کہا کہ حکمت عملی کے اگلے مرحلے میں قابل تجدید توانائی کے شعبے، ٹرانسپورٹ اور لاجسٹک سیکٹر اور سیاحت سمیت مختلف شعبوں کے لیے سرمایہ کاری کے تفصیلی منصوبوں پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…