جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

چینی کمپنی کین سائنو کی ایک خوراک والی ویکسین بچوں کے لیے محفوظ قرار

datetime 27  ستمبر‬‮  2021 |

بیجنگ(این این آئی)چینی کمپنی کین سائنو کی ایک خوراک والی کووڈ 19 ویکسین کو کم مقدار میں بچوں کو دینا محفوظ اور بیماری سے بچا کے لیے مدافعتی ردعمل کو متحرک کرتا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ بات چین میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔اس تحقیق میں 6 سے 17 سال کی عمر کے بچوں کو بالغ افراد کے مقابلے میں ویکسین کی کم خوراک کا استعمال کرایا گیا تھا

۔نتائج سے معلوم ہوا کہ بہت کم بچوں میں ویکسینیشن کے بعد بخار اور سردرد کی علامات ظاہر ہوئیں جن کی شدت لیول 2 تھی۔تحقیق میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ ویکسین کی خوراک کی کم مقدار سے بھی بچوں میں بالغ افراد سے زیادہ تعداد میں اینٹی باڈیز بن گئیں۔اس تحقیق میں 150 بچوں اور 300 بالغ افراد کو شامل کیا گیا تھا۔نتائج سے یہ بھی ثابت ہوا کہ ویکسین کی کم مقدار والی ایک خوراک سے ہی بچوں میں ویکسینیشن کے 56 دن بعد بالغ افراد کے مقابللے میں زیادہ طاقتور اینٹی باڈی ردعمل پیدا ہوا۔مگر فی الحال یہ واضح نہیں کہ ویکسین سے بچوں کو کووڈ 19 کے خلاف کس حد تک تحفظ حاصل ہوتا ہے۔کین سائنو کو ابھی تک چین میں بچوں کے لیے استعمال کرنے کی منظوری نہیں دی گئی بلکہ سائنو ویک اور سائنو فارم کو 3 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کو استعمال کرانے کی اجازت دی گئی ہے۔تحقیق میں بتایا گیا کہ کین سائنو کا بوسٹر ڈوز مختلف عمر کے گروپس بالخصوص معمر افراد میں اینٹی باڈی ردعمل کو بہتر کرتا ہے۔محققین کا کہنا تھا کہ اینٹی باڈی سے ہٹ کر مدافعتی نظام کے ایک اور اہم حصے خلیاتی ردعمل میں دوسری خوراک کے استعمال کے 56 دن بعد کوئی بہتری نہیں آتی اور اس حوالے سے زیادہ طویل وقفے پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔اس سے قبل ستمبر 2021 میں سائنو فارم ویکسین کے 3 سے 17 سال کی عمر کے گروپ کے ٹرائلز کے نتائج بھی جاری ہوئے تھے۔ ویکسین 3 سے 17 سال کی عمر کے رضاکاروں میں محفوظ ثابت ہوئی۔ٹرائلز میں دریافت کیا گیا کہ 2 خوراکوں والی یہ ویکسین بچوں میں ٹھوس مدافعتی ردعمل اور بالغ افراد جتنی وائرس ناکارہ بنانے والی اینٹی باڈیز بنتی ہیں۔کمپنی اور چائنا سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونٹیشن کی اس تحقیق میں شامل محققین کا کہنا تھا کہ تیسرے مرحلے کے ٹرائلز کا ڈیٹا متحدہ عرب امارات سے اکٹھا کیا جائے گا جہاں 3 سال کے بچوں ویکسینیشن پروگرام کا حصہ بنایا جارہا ہے۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…