جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

امریکی افواج نے کابل ایئرپورٹ چھوڑنے سے قبل جنگی ساز و سامان ناکارہ بنادیا

datetime 31  اگست‬‮  2021 |

واشنگٹن(این این آئی)ایک امریکی جنرل نے کہا ہے کہ امریکی فوج نے روانگی سے قبل کابل ہوائی اڈے پر کئی طیاروں اور بکتر بند گاڑیوں کے ساتھ ساتھ ایک ہائی ٹیک راکٹ ڈیفنس سسٹم کو ناکارہ بنادیا۔فرانسیسی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق سینٹرل کمانڈ کے

سربراہ جنرل کینتھ میکینزی نے کہا کہ طالبان کے افغانستان پر قبضے کے بعد 2 ہفتوں میں انخلا مکمل کرنے سے قبل 73 طیارے جو پہلے ہی حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر موجود تھے غیر مسلح یا بیکار ہو گئے۔انہوں نے کہا کہ وہ طیارے دوبارہ کبھی پرواز نہیں کرسکیں گے اور کوئی بھی اسے کبھی چلا نہیں سکے گا۔ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ ان میں سے بیشتر غیر مشن کے ساتھ شروع کرنے کے قابل ہیں لیکن یقینی طور پر وہ دوبارہ کبھی اڑنے کے قابل نہیں ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ پینٹاگون نے 14 اگست کو ایئرلفٹ شروع ہونے کے بعد کابل کے ہوائی اڈے کا انتظام سنبھالنے اور چلانے کے لیے تقریبا 6 ہزار فوجیوں کی ایک فورس تشکیل دی تھی۔جس نے تقریبا 70 ایم ار اے پی مسلح ٹیکٹکل گاڑیاں چھوڑی ہیں جن کی فی کس قیمت 10 لاکھ ڈالر ہے تاہم ان گاڑیوں اور( 27 ہائی موبیلیٹی ملٹی پرپرز وہیلڈ وہیکل)ہومویز کو ناکارہ کردیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ان گاڑیوں کو دوبارہ کبھی بھی کوئی بھی استعمال نہیں کرسکتا۔امریکا نے راکٹ، گولہ باری اور بمباری روکنے کا نظام سی آر اے ایم بھی چھوڑا ہے جسے ایئرپورٹ کو راکٹ حملوں سے محفوظ رکھنیکے لیے استعمال کیا گیا تھا۔جنرل میکینزی نے کہا کہ آخری امریکی طیارے کے اڑان بھرنے سے قبل آخری لمحے تک ہم نے یہ نظام فعال رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ ان سسٹمز کو کھول کر الگ کرنا ایک انتہائی پیچیدہ اور وقت طلب کام ہے اس لیے ہم نے انہیں ڈی ملٹرائزڈ کردیا تا کہ انہیں دوبارہ کوئی استعمال نہ کرسکے۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…