جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

طالبان کی ممکنہ آمد سے افغان خواتین انتہائی خوف زدہ ہیں،عرب ٹی وی

datetime 4  جولائی  2021 |

دبئی(این این آئی)طالبان کی ممکنہ آمد سے افغان خواتین انتہائی خوف زدہ ہیں،قتل ، کوڑے مارنے ، تشدد اور کنوارے پن کی تصدیق جیسے خدشات افغان خواتین کے دماغ میں ایک بار اس لیے تازہ ہوگئے ہیں کیونکہ طالبان اپنے پچھلے دور میں خواتین پر اس طرح کے جبر کرچکے ہیں،

عرب ٹی وی نے افغان خواتین کی طالبان کی اقتدار میں واپسی کے خوف کی وجوہات کا جائزہ لیا۔ رپورٹ میں افغانستان میں خواتین کے خلاف تشدد کے محرکات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اس حوالے سے سب سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا افغان خواتین کے تحفظ کے لیے نئی قانون سازی کرنے کی ضرورت ہے؟قتل ، کوڑے مارنے ، تشدد اور کنوارے پن کی تصدیق جیسے خدشات افغان خواتین کے دماغ میں ایک بار اس لیے تازہ ہوگئے ہیں کیونکہ طالبان اپنے پچھلے دور میں خواتین پر اس طرح کے جبر کرچکے ہیں۔افغانستان سے نیٹو افواج کے انخلا کی تکمیل کے بعد حالات ماضی کی طرف اور طالبان کی اقتدار پر قبضے کی طرف لوٹ سکتے ہیں۔ طالبان کا اقتدار پر قبضہ ہی خواتین کے لیے خوف کا سب سے بڑا محرک ہے۔پچھلی دو دہائیوں سے خاص طور پر افغان خواتین کے لیے ملک میں بہت سی تبدیلیاں آئیں۔ لڑکیاں اسکول جانے لگیں خواتین سیاسی میدان اور کاروبار میں آگے آنے لگیں، لیکن طالبان تحریک کی بڑھتی ہوئی طاقت کے ساتھ خدشہ ہے کہ یہ فوائد غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد ضائع ہوجائیں گے۔طالبان کے اقتدار کے خاتمے کے بعد افغان خواتین نے سکھ کا سانس لیا تھا اور وہ تیزی سے زندگی میں واپس آنے میں کامیاب ہوگئیں۔ طالبان نے لڑکیوں کی تعلیم اور ان کے اسکول جانے پر پابندی عائد کردی تھی۔ آج اگر طالبان کی طرف سے اسکولوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے تو یہ تعجب کی بات نہیں۔حال ہی میں داشتی پاشتی کے علاقے میں قائم “سید الشہدا اسکول” کو نشانہ بنایا گیا جس میں 60 طالبات ہلاک اور ڈیڑھ سو سے زاید زخمی ہوگئیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…